اسماء ، ذات اور صفا ت
اللہ کے اسماءِ حُسنی میں مَجمعُ البحار اسمِ رحمان ہے۔ تمام صفات واسماءِالہٰیہ رحمان کی وسعتوں میں یکجا اور جلوہ فرما
خْلقِ محمدی
مخلوقات میں خلقتِ انسانی  کو اللہ  تبارک و تعالی نے خْلق کی وجہ سے امتیاز اور فضیلت سے نوازا ہے ۔ خْلق  چند ایک افعال 
فردِملّت -١١
فردِملّت -11 تحریر : پروفیسر علامہ زید گل خٹک بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے حکیم

عِلم

11 January 2022
(0 votes)
Author :  
font size +

عِلم

علم اصولی طور پر صفاتِ اِلٰہیہ  میں سے ہے وہ خالقِ کائنات علیم و علّام ہے۔ مطلق، ذاتی اور کلّی علم اْس کے پاس ہےاْس پاک والاصفات نے جدّْنا سیّدنا اٰدم علیہ السلام کو علم الاسماء عطا فرمایا۔ سیّدنا داوٗد  و سیّدنا سلیمان علیہماالسلام کو منطق الطّیر کا علم دیا۔ جنابِ مہتر خضر و الیاس علیہماالسلام کو اسرارِکائنات کا عِلم عنایت کیا اور ہمارے آقا و مولیٰﷺ کو عِلمِ تفصیل عطا فرمایا۔

اْس علّامْ الغیوب نے انسان کو خبر،وجدان،مشاہدہ،تجربہ، عقل ،نقل  اور قلم کے ذریعےعِلم  سکھایا۔ وْحوش و بہائم اور عنادل و طیور حتّٰی کہ انامل و حشرات الارض کو بھی ان کی قدر کے مطابق علم دیا۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمیدمیں ہدہد اور چیونٹی کی سیّدناسلیمانؑ سے گفتگو پاسِ ادب  اور کمالِ شعور  اْس فاطِرِحقیقی کے الطاف و عنایات کا پتہ دیتی ہے۔

ہمارے آقا و مولیﷺ کو چونکہ اللہ ذوالمنن نے عِلمِ تفصیل عطا فرمایا ہے لہٰذا آپ کریم و حبیبﷺ سے شجر و حجر نے بھی کلام کرنے کی عزّت پائی۔ ہوا، دخان، آب اور نوالہءِطعام نے بھی آپﷺ سے بات کرنے کا شرف پایا اور اْس علمِ طبعی و وہبی کا ثبوت دیا جو اللہ جلّ مجدہٗ نے ان کو ودیعت فرمایا ہے۔

عِلم کئی انواع واقسام  پر مشتمل ہے اور پھر ہر نوع کے بہت سے ابساط(Expansions) ہیں۔ مثلًا :

  • عِلمِ فطری و طبعی : شہد کی مکھی کا علم وغیرہ۔
  • عِلمِ وہبی و عطائی : ہر وہ عِلم جو اللہ نے خلائق کو دیا ہے تاکہ وہ اپنی زیست کریں۔
  • علمِ منطقی : وہ علم جو انسان کو عقل و شعور و وجدان کے تحت میسّر آتا ہے۔
  • علمِ لدنّی : وہ علم جو اللہ تبارک و تعالیٰ کسی عظیم روحانی ہستی کو بطورِ خاص عطا فرماتا ہے۔
  • علمِ کسبی : وہ علم جو انسان اپنی ودعی استطاعت و استعداد کے مطابق سیکھتا ہے۔
  • علمِ عین : جس کا سیکھنا ہر شخص کے لئے لازم ہے جیسے تکلّفاتِ شرعیہ کا علم۔
  • علمِ کفایہ : جس عِلم کا حصول کسی متعیّن و متمکّن گروہ میں ایک شخص کے لئے ضروری ہے۔
  • علمِ تکفل : روزی کمانے کے لئے کسب ،ہنر، صنعت ، حرفت اور تجارت کا علم۔
  • علمِ فلاحت : کھیتی باڑی، زراعت اور زمین کی آبادکاری کا عِلم۔
  • علمِ معدن : جبال و سہول سے ذخائر و خزائن نکالنے کا علم۔
  • علمِ ارتقاء : دریافت شدہ اشیاء کے خواص معلوم کر کے ان کو قابِلِ استعمال بنانے کا ہنر اور عِلم۔
  • علمِ استقراری : سکونت اور تعمیر کا عِلم۔
  • علمِ ذوقی : ادبی ، عمرانی اور دیگر معاشرت۔
  • علمِ لطفی : فنونِ لطیفہ، موسیقی اور فلسفہ کا عِلم۔
  • علمِ روحانی و سرّی : قلب ، روح اور سرّ و اسرار و الطاف معلوم کرنا اور پروان چڑھانا۔
  • علمِ طبّی : علاج و معالجہ۔
  • علمِ نباتی و ترکیبی : بیالوجی اور کیمیا کا علم۔
  • علمِ طبعی و غیر طبعی : ساز، آواز، ہوا، توانائی، رفتار اور مابعدالطبعیّات کا عِلم۔
  • علمِ زمانی و مکانی : وقت اور جغرافیہ کا علم! اس میں علمِ تاریخ بھی شامِل ہے۔
  • علمِ تجربی: سائنس و ایجاد کا علم۔
  • علمِ دینی : دین و شریعت کا علم۔

بڑے بڑے علماء نے عِلم کے 92 اقسام بیان کئے ہیں اور پھر ہر قسم کے 92 انواع اور پھر ہر نوع کے 92 ابساط بیان کئے ہیں۔

اسی طرح تمام اشیاء اور تمام علوم عددی اعتبار سے لفظِ محمّدؐ کی طرف رجعت کرتے ہیں بقولِ حکیم  الامّۃؒ:

لَوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتاب
گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

علم کے باب میں تعلیماتِ اقبالؒ میں اعلیٰ، اہم مؤثر اور مفید ترغیب موجود ہے ۔ جس سے عِلم کے حصول کا ولولہ پیدا ہوتا ہےاور علم کی برکات عام ہونے کی سبیل نکلتی ہے۔
کھُلا جب چمن میں کتب خانۂ گُل
نہ کام آیا مُلّا کو علمِ کتابی

حکیم الامّۃؒ عِلمِ نافع و راسخ کے قائل ہیں آپؒ علمِ حاضر و ظاہر کو دین کے لئے زار و زبوں سمجھتے ہیں۔ کتابِ ہدیٰ اور سنّتِ مصطفیٰﷺ میں علمِ راسخ اور علمِ نافع کی ترغیب ہے۔ ملائیت عِلمِ حاضر و ظاہر کی ترجمان ہے جس سے مِلّی اتّحاد اور قومی وحدت منتشر ہوتی ہےتفرقہ سازی اور فرقہ بازی کا رجحان پیدا ہوتا ہے جو ملّی وجود کو پارہ پارہ کردیتا ہے۔ صرف اظہار و بیان، استدلال و تعبیر ایک ریا اور عجب تو لئے ہوئے ہوتے ہیں ، نافع اور مثبت اثر پذیری سے بے فطرت ہوتے ہیں۔ چنانچہ حکیم الامّۃؒ فطرت کے اشارات کی طرف توجّہ دِلاتے ہیں۔

پھول فطرت کا حسین غماز ہے ۔ عالمِ مثال کے روح و ریحان نسیمِ سحرگاہی کے دوش پر سوار ہوکر برگِ گل پر شبنم کا موتی سجا دیتے ہیں اور اہلِ عالم کو لطافت کی تعلیم دیتے ہیں۔ پشتو کے عظیم فلسفی اور عارف شاعر کہتے ہیں:

ما پہ گْل کی اْولید چہ تہ اے نہ مومے کتاب کی

اے ملا صاحبہ ستا نیم کتاب مے واورید پہ رباب کی

ترجمہ: میں نے وہ کچھ پھول میں پا لیا جو آپ کتاب میں نہیں ڈھونڈ سکتے۔اے ملّا صاحب میں نے آپ کی کتاب کا آدھا علم تو رباب کے نغمہ سے حاصل کیا۔

نسیم،شبنم،گل اور عندلیب کے استعارے اور تشابیب  حضرت کے کلام میں کثرت سے ملتے ہیں۔ دراصل یہ فاطرِحقیقی کے جمال کے حسین پرتوات ہیں اور اْس وجودِمطلق اور حسنِ ازل کی رحمت اور محبّت کا پتہ دیتے ہیں ان نزاکتوں اور فطری محاسن میں رحم و کرم، نفاست و متانت، شیفتگی و محبّت کی تعلیم ہے۔ طبائع پر اِن فطری جمالیات کا سحر انگیز اثر ایک ذوق و شوق اور وارفتگی کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک کیف اور شادمانی پیدا ہوتی ہے اور اْمید کی فضا جنم لیتی ہے۔

حسنِ ازل کے یہ اشارات روحانی ذوق پیدا کرتے ہیں اور یہدِی اللہْ لنورہٖ من یّشاءْ کی سماں بنادیتے ہیں۔ میرزاد اسداللہ غالبؒ نے کیا خوب فرمایاہے        ؎

                                                        پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم

میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک

حیات کا مقصد ہی معرفتِ محبوبِ حقّانی ہے۔ علم معرفت کا پروانہ ہی تو ہے۔ فنا کی تعلیم الطافِ فطرت سے میسّر آتی ہے کہ متلاشی اور طالِب پرتواتِ حسن و جمالِ فطرت میں انواراتِ اِلٰہیہ کا رنگ ڈھونڈتا رہے۔ انوارات میں تجلّیات کا جلال محسوس کرے، تجلّیات میں صفات کی محبّت و ہیبت اور شکوہ و سطوت کا باطنی مشاہدہ کرے اور صفات میں ذاتِ مطلق اور حسنِ ازل کی خلافت کا ولولہ اور جوش پیدا ہو۔

بس یہی ہے نافع اور راسخ علم جس کی طرف حکیم الامّۃؒ اشارتِ فطرت اور پردہءِگْل میں ترغیب دیتے ہیں۔

اللہ جمیل و یحبّ الجمال، اللہ الوتر و یحب الوتر، اللہ نظیف و یحب النّظافۃ، تخلقوا باَخلاق اللہ، الفناء فی اللہِ، البقا مع اللہ  کے باب اس علم سے کھلتے ہیں اور ابنِ آدمؑ مقامِ خلافت کے تقاضے پورے کرسکتا ہے۔

یہ عِلم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکرِ مُلوکانہ کی ایجاد

حکیم الامّۃؒ اس تخریبی رویّہ کی طرف توجّہ دلا رہے ہیں جو بد انتظامی اور حریصانہ کشمکش کی وجہ سے عِلم و حکمت اور سیاست و تجارت پر بری طرح اثرانداز ہوا ۔ عِلم کے دِل زنی سے محروم کرکے تن زنی سے مملو کردیا، حکمت و فلسفہ کو تعمیرِ آب وگِل اور حیاتِ انسانی کے تزئین و آرائش کے بجائے مناقشہ ومجادلہ کی راہ پر ڈال دیا۔

سیاست کو فلاحِ خَلق کے اسلوب سے بر گشتہ کرکے حرص و ہوس کی آماجگاہ بنادیا، تجارت سے برکت چھین کر نفع اندوزی اور خیانت کے بھینٹ چڑھا دیا۔ اصلاحِ تعلیم و تعلّم کا لازمی تقاضا ہے کہ اِن تمام معاشرتی ستونوں کو ان کے حقیقی نہج پر استوار کیا جائے اس مہتم بالشّان اصلاح و احیاء کا امکان تعلیم کے زور سے روشن ہوگا، تعلیم تزکیہ کا روادار ہے اور تزکیہ اصلاح کا پیشِ خیمہ۔

وحشت نہ سمجھ اس کو اے مَردکِ میدانی!
کُہسار کی خلوَت ہے تعلیمِ خود آگاہی

پہاڑ کا استعارہ خلافت کی امانت، تجلّی کا ظہور، عزلت نشینی، مراقبہ اور عرفانِ ذات کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اپنے من کی دنیا میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا جانے کا عمل ہے۔ پہاڑ اللہ کی ہئیبت و جلال سے کانپتے ہیں جو خشوع و ورع کی تمہیدِ طولانی ہے ، پہاڑ نے امانتِ خلافت کی سطوت دیکھی ہے اور تجلّی کا جمال بھی دیکھا ہے۔ پہاڑ میں ہادیءِعالَمﷺ مراقب و فروکش بھی رہے  اور پھر انوار سے معمور قلب لیکر چاروانگ عالم کو نورِہدایت سے جگمگادیا۔

خود آگاہی کی تعلیم ہمارے ہاں ناپید ہےاس لئے سیرت کی ضیاءمتجلّیٰ نہیں ، کردار کی ضوفشانی عرفانِ ذات سے پھوٹتی ہے، جب تک باطن درخشاں نہ ہوجائے، ظاہری محاسِن محض ریا و عجب ہیں۔ حکیم الامّۃؒ عرفانِ ذات کو تعلیم کا لازمی عنوان گردانتے ہیں۔

عِلم و عشق

حکیم الامّۃعلّامہ اقبالؒ کی یہ نظم عِلم و عِشق کے درمیان ایک مکالمہ  ومحاکمہ بھی ہےاور راسخ و نافع اور عشق کے امتیاز پر ایک خوبصورت استدلال بھی! عِلم اگر خام ہو اور ظاہربین ہو تو اْس کو عِشق دیوانہ پن نظر آتاہے، اس لئے قرآن مجید نے عِلمِ راسخ اور صاحبِ قرآنؐ نے عِلمِ نافع کی بات کی ہے تاکہ تضاد کی نوبت نہ آئے اور صاحبِ عِلم حقیقتِ اشیاء سے روشناس ہو۔ اس علمِ خام و ظاہربین کو عشق نے تخمین و ظن قرار دیااس لئے کہ اس کے حصے میں گمان و اندازہ ہے جو تذبذب  اور غیر یقینی صورتِ حال میں گرفتار رکھتا ہے۔

علم دلیل کی وادیوں میں سفر کرتا ہے اس لئے حجاب در حجاب کی منزلیں مارتا ہے اور عِشق یقین کے تخت پر براجمان ہوکر حضوری پاتا ہے اور دیدار کے لطف سے شاد کام ہوتا ہے۔عشق اشیاء کی حقیقت جان چکا ہے اس لئے اشیاء و حوادث کو تسخیر کرنے کا معرکہ سَر کرتا ہے۔

عِلم ذاتِ مطلق اور حسنِ ازل کی صفات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، بس عِلم کی آخری حد ہی یہی ہے کہ وہ صفات میں غور کرے بشرطیکہ وہ عِلمِ راسخ و نافع ہو جبکہ عشق وجودِعنصری،مظاہرِکائنات اور مشربِ دیدار میں ذات کا نظارا کرتا ہے ۔ عشق مقامِ حقیقت پر جا بسیرا کرتا ہے اور سکون و ثبات سے ہمکنار ہوتا ہے، طمانیّت کی منزل پاتا ہے، نفسِ مطمئنّہ  ہے اور رضا سے باریاب ہے۔ رؤيتِ خلیلؑ ہے، مشاہدہ اور یقین سے خلعت یافتہ ہے ۔

عِشق کو حیات کا راز معلوم ہے اور موت کی حقیقت سے بھی مانوس ہے۔ عِلم کے تمام سوالوں کا شافی جواب عشق کے پاس ہے ، عِلم جہاں حیران ہے عشق وہاں شادمان ہے۔ عشق عرفانِ ذات سے سرمایہ دار ہوکر سلطنت کو بھی ہیبت زدہ کردیتا ہے ۔ فقر کے ہجوم کا شمع بردار التمش  فتنہءِمغول پر بھی قابو پالیتا ہے ، عشق زماں و مکاں کو تسخیر کرلیتا ہے اس لئے اِن کے قید اور شدّت سے بے نیاز ہے۔ عشق یقین کے تیغ سے بابِ فتح پر دستک دیتا ہے ۔

عشق کا رأس المال محبّت ہے اس لئے اِس کی منزل ابدی ہے۔ حرکت اس کا شیوہ  ہے اور یہ پڑاؤ سے بے نیاز ہے اس کا پسندیدہ مشغلہ ابتلا ہے اور پاکر کھودینا اس کی عادت ہے۔ عشق جلال کی تجلّی سہہ سکتا ہے اور اس کو حصول سے نہیں ایثار سے سروکار ہے۔عِلم کتاب سے پھوٹتا ہے اور عشق سے کتاب پھوٹتی ہے۔

علّامہ زیدگل خٹک صاحب

مشیر روح فورم و آبروئے ملّت

 

About the author

Login to post comments
 Professor Allama Zaid Gul Khattak is a renowned Islamic scholar from Pakistan. He has been associated with Voice of America’s (VOA) program Dewa Radio for about ten years where most of the topics with respect to Tasawuf were debated including the life history of about five hundred Sufis from the
Professor Zaid Gul Khattak gave lectures on  VoA ( Urdu) Voice of America Channel for 12 years on subjects like seerat, Hadith , Tassawuf , Poetry and Iqbaliyat 
  • Prev
حکیم الامتؒ کا اظہاریہ اور بیانیہ شعر ہے لیکن خبریہ اور انشائیہ بہت عالمانہ اور محققانہ ہے۔ آپؒ الہامی اور کسبی تاریخ کا بےپناہ مطالعہ اور عبقری مشاہدہ رکھتے ہیں۔ اللہ جلّ شانہ کا ارادہ پہلے تعیّنِ
  • Prev

                                                      
 






معراج  النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم 

 

by Prof Zaid Gul Khattak  Link download                           by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

ولادت حضرت عیسی ' ابن مریم علیہ السلام اور مسلمان


by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

Recent News

cache/resized/b15a70d8f5547f99286ef34082cb3ae3.jpg 11
January 2022

عِلم

عِلم علم اصولی طور پر صفاتِ اِلٰہیہ  میں سے ہے وہ خالقِ کائنات علیم و علّام ہے۔ مطلق، ذاتی اور کلّی علم اْس کے پاس ہےاْس پاک والاصفات نے جدّْنا ...

From The Blog

  • چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    حریت از زہر اندر کام ریخت

    جب خلافت نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے آزادی کے  حلق میں زہر انڈیل دیا۔

    پھر حضرتِ اقبال  تاریخ کی طرف جاتے ہیں  ۔ امتدادِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں  مرور ِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں یہ عظیم الشان  اظہار پسند  ایک شعر میں تاریخ کے حال و ماضی و استقبال  کو سمو کے  رکھ دیتا ہے۔ کہ وہ جو حق تھا  بظاہر قلت کے ساتھ رونما ہوا تھا  و قلیل من عبادی الشکور یہی تو حق کی پہچان ہے حضرت ِ طالوت ؑ کی قیادت میں  حزب الشیطان کے ایک سرکش  کے مقابلے میں جب حق آراستہ ہوا تو قرآن میں کیا آتا ہے  ۔

    قرآن ِ عظیم میں رب جلیل کا ارشاد ہے  کہ اُن میں سے کچھ نے فرمایا

    فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ

  • پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد
    پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد


    کعب بن زہیرہ عرب کا مشہور شاعر تھا۔ لُردانِ کفر کے حرص آمیز بہکاوے میں آکر کعب ہجویہ شاعری کرتا تھا اور آقا و مولیٰ محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں شتم کا ارتکاب کرتا تھا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر موہوم خوف کے تحت طائف کی طرف فرار اختیار کر رہا تھا کہ راستے  ح کُن
    اقدس بخشش فرمائی۔امر پیش آیا۔ ناقہ کا رُخ موڑ کر کعب بن زہیر دربارِ عفوِ بے کنار کی طرف واپس پلٹا۔ واپسی کے سفرِ ندامت میں قصیدہ بانت سعاد منظوم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کی۔ میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف معاف کیا بلکہ بطورِ خلعتِ فاخرہ اپنی ردائے 

Support us to spread the love n light

Your contribution can make the difference - Get involved

Upcoming Events

Coming soon فصوص الحکم و خصوص الکلم

Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…