اسماء ، ذات اور صفا ت
اللہ کے اسماءِ حُسنی میں مَجمعُ البحار اسمِ رحمان ہے۔ تمام صفات واسماءِالہٰیہ رحمان کی وسعتوں میں یکجا اور جلوہ فرما
خْلقِ محمدی
مخلوقات میں خلقتِ انسانی  کو اللہ  تبارک و تعالی نے خْلق کی وجہ سے امتیاز اور فضیلت سے نوازا ہے ۔ خْلق  چند ایک افعال 
فردِملّت -١١
فردِملّت -11 تحریر : پروفیسر علامہ زید گل خٹک بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے حکیم

نبوی طریقۂ تعلیم

13 August 2015
(0 votes)
Author :  
font size +

 نبوی طریقۂ تعلیم نیک خوئی پیدا کرنا ہے۔ رشدو ہدایت تعلیم کا اہم شعبہ ہے جس کا ہدف سیرت سازی ہے باطن صاف ظاہر باوقار تعلیمی پالیسی کا اصل الاصول ہونا چاہیے۔

سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ (الانعام76)

" میں فنا ہونے والے کو پسند نہیں کرتا"

 فنا ہونے والوں سے غیر قیام پذیر وجود مراد ہیں قومی استحکام تعلیمی فروغ سے جڑا ہوا ہے۔

سیدنا خضرؑ فرماتے ہیں:"وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا "(الکھف68)

 "اور آپ اس پر صبر کیسے کرسکتے ہیں جس کا آپ کو علم ہی نہیں"
 شاگردی اور تعلّم کے آداب بہت ضروری ہیں ۔معلّم کے لیے فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے تلامذہ میں آداب تلمّذ پیدا کرے۔

سیدنا حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ"(یوسف92)

آج کے دن تمہارے ساتھ سخت برتاؤ نہیں ہوگا

استاد کا رویہ جابرانہ نہیں بلکہ مشفقا نہ ہونا چاہیے تاکہ تلامذہ حقیقی اثر لیں اور ان کی زندگیوں میں صالح انقلاب آئے

 "سیدنا موسی فرماتے ہیں: إِنَّ مَعِيَ رَبّي سَيَهْدِيْنِ"(الشعراء96)

 "میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے راستہ دے گا "

استاد کی ذمہ داری ہے کہ شاگرد کے دل میں اللہ کی معیت کا احساس پیدا کرے۔

سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:

" سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ "(الشعراء102)

 صبر ایک بڑی استعداد ہے "

زندگی کےابتلا آمیز شاہراہ پر صرف صابر شخص کامیاب سفر کر سکتا ہے۔ معلم پر لازم ہے کہ اپنے طلبا کو صبرشعار بنائے تاکہ صبرآزما مراحل میں وہ شکست خوردہ نہ ہوجائیں۔

سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:"مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ"(اٰلِ عمران52)

" اللہ کی راہ میں میری نصرت کون کرےگا باہمی تعاون اور نصرتِ حق کے جذبات  پروان چڑھانا

تعلیم وتربیت کا اہم حصہ ہے۔

بچے کا ذہن ایک لوحِ خام کی مانند ہے استاد اس لوح پر نقش مرتب کرتا ہے۔ اگر نقاش محنت  و مہارت سے نقش مرتب کرے تو یہ لوح خام منقش اور دیدہ زیب ہوجاتی ہے۔

اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے کہ وہ ایمان کو تمہارے لئے محبوب رکھتا ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کرنا چاہتا ہے ۔حب کا اصل معنی دانہ ہے۔ استاد کا کام اس دانہ کو آب ِتعلیم دے کر  پروان چڑھانا اور بارآور کرنا ہے۔ قلب کے اندر ایمان کو مزین کرنا ایک مسلسل تربیتی عمل کا متقاضی ہے۔

استاد ملازم نہیں مربّی ہے جب تک وہ خود کو مربی نہیں جانے گا بچوں کی کماحقہ تربیت نہیں کر پائے گا۔

ابو حامد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں استاد شفیق ہوگا تو بچہ رزیق ہوگا یعنی وہ رزقِ  علم پائے گا۔

ابن رشد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں بچے کے اندر چار خواص ہوتے ہیں فطرت، طبیعت ،جبلّت، اور مادیّت!

 استاد کوچا ھیئے کہ اس کی فطرت کو پاک رکھے، طبیعت کو متوازن رکھے، جبلت کو بےخوف رکھے اور مادیّت کو قانع رکھے۔

ازبر کرنے سے نصاب زبر ہو جاتا ہے لیکن طالب علم زیر ہو جاتا ہے ۔فہم حاصل کرنے سے طالبعلم جلوہ گر ہوتا ہے۔

 استاد دیکھے کہ طالب علم میں استعداد پیدا ہوئی ہے کہ نہیں ۔اگر وہ اپنے شاگرد میں استعداد پیدا کرسکا ہے تو راست معنوں میں استاد ہے۔

امام جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام کے تلامذہ یک زبان ہیں کہ ہماری عمر بس وہی ہے جو امام والاتبار کے حضور میں گزری ہے۔

orci.

About the author

160 Views

Suspendisse at libero porttitor nisi aliquet vulputate vitae at velit. Aliquam eget arcu magna, vel congue dui. Nunc auctor mauris tempor leo aliquam vel porta ante sodales. Nulla facilisi. In accumsan mattis odio vel luctus.

Login to post comments
 Professor Allama Zaid Gul Khattak is a renowned Islamic scholar from Pakistan. He has been associated with Voice of America’s (VOA) program Dewa Radio for about ten years where most of the topics with respect to Tasawuf were debated including the life history of about five hundred Sufis from the
Professor Zaid Gul Khattak gave lectures on  VoA ( Urdu) Voice of America Channel for 12 years on subjects like seerat, Hadith , Tassawuf , Poetry and Iqbaliyat 
  • Prev
حکیم الامتؒ کا اظہاریہ اور بیانیہ شعر ہے لیکن خبریہ اور انشائیہ بہت عالمانہ اور محققانہ ہے۔ آپؒ الہامی اور کسبی تاریخ کا بےپناہ مطالعہ اور عبقری مشاہدہ رکھتے ہیں۔ اللہ جلّ شانہ کا ارادہ پہلے تعیّنِ
  • Prev

                                                      
 






معراج  النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم 

 

by Prof Zaid Gul Khattak  Link download                           by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

ولادت حضرت عیسی ' ابن مریم علیہ السلام اور مسلمان


by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

Recent News

cache/resized/b15a70d8f5547f99286ef34082cb3ae3.jpg 11
January 2022

عِلم

عِلم علم اصولی طور پر صفاتِ اِلٰہیہ  میں سے ہے وہ خالقِ کائنات علیم و علّام ہے۔ مطلق، ذاتی اور کلّی علم اْس کے پاس ہےاْس پاک والاصفات نے جدّْنا ...

From The Blog

  • چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    حریت از زہر اندر کام ریخت

    جب خلافت نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے آزادی کے  حلق میں زہر انڈیل دیا۔

    پھر حضرتِ اقبال  تاریخ کی طرف جاتے ہیں  ۔ امتدادِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں  مرور ِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں یہ عظیم الشان  اظہار پسند  ایک شعر میں تاریخ کے حال و ماضی و استقبال  کو سمو کے  رکھ دیتا ہے۔ کہ وہ جو حق تھا  بظاہر قلت کے ساتھ رونما ہوا تھا  و قلیل من عبادی الشکور یہی تو حق کی پہچان ہے حضرت ِ طالوت ؑ کی قیادت میں  حزب الشیطان کے ایک سرکش  کے مقابلے میں جب حق آراستہ ہوا تو قرآن میں کیا آتا ہے  ۔

    قرآن ِ عظیم میں رب جلیل کا ارشاد ہے  کہ اُن میں سے کچھ نے فرمایا

    فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ

  • پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد
    پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد


    کعب بن زہیرہ عرب کا مشہور شاعر تھا۔ لُردانِ کفر کے حرص آمیز بہکاوے میں آکر کعب ہجویہ شاعری کرتا تھا اور آقا و مولیٰ محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں شتم کا ارتکاب کرتا تھا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر موہوم خوف کے تحت طائف کی طرف فرار اختیار کر رہا تھا کہ راستے  ح کُن
    اقدس بخشش فرمائی۔امر پیش آیا۔ ناقہ کا رُخ موڑ کر کعب بن زہیر دربارِ عفوِ بے کنار کی طرف واپس پلٹا۔ واپسی کے سفرِ ندامت میں قصیدہ بانت سعاد منظوم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کی۔ میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف معاف کیا بلکہ بطورِ خلعتِ فاخرہ اپنی ردائے 

Support us to spread the love n light

Your contribution can make the difference - Get involved

Upcoming Events

Coming soon فصوص الحکم و خصوص الکلم

Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…