اسماء ، ذات اور صفا ت
اللہ کے اسماءِ حُسنی میں مَجمعُ البحار اسمِ رحمان ہے۔ تمام صفات واسماءِالہٰیہ رحمان کی وسعتوں میں یکجا اور جلوہ فرما
خْلقِ محمدی
مخلوقات میں خلقتِ انسانی  کو اللہ  تبارک و تعالی نے خْلق کی وجہ سے امتیاز اور فضیلت سے نوازا ہے ۔ خْلق  چند ایک افعال 
فردِملّت -١١
فردِملّت -11 تحریر : پروفیسر علامہ زید گل خٹک بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے حکیم

Educational Programs

05 January 2022
(0 votes)
Author :  

تعلیم و تربیّت

روح فورم کے اصلاحی، فلاحی اور  رفاہی پروگرامز میں ترجیحی توجہ فروغِ تعلیم اور منہجِ تربیت کو حاصل ہے۔انسانی تعمیر و ترقی  میں تعلیم  وتربیت کا کردار  خاص توجہ کا متقاضی ہے۔قرآن و سنۃ ، آثار ِ انبیاءِؑ اکرامؑ، وثائقِ اہلِ بیت علیہم السلام، بصائرِ امہات المومنین علیہن السلام نظائرِ اصحابہءِ اکرام رضی اللہ عنہم، رشحاتِ اسلافؒ و اخلافؒ اور مشاہیرِ عالم کے افکار ِ جلیلہ کو مدِ نظر  رکھتے ہوئے تعلیمی و تربیتی جادہ کچھ اس طور  مدوّن و مترتب ہونا چاہیے۔

الف) ترغیبی طریقہءِ تعلیم و تربیت

اس طریقہء تعلیمی و تربیت کو جماعت اول سے جماعت ہشتم تک زیرِ تدریس رکھنا چاہیے۔اس طریقہ میں امام غزالیؒ، ابنِ رشدؒ، ابن طینؒ، ابن ِ زجارؒ الماوردیؒ، الفرابیؒ، سقراط اور شیکسپئر و ورڈز ورتھ (Shakespeare and Wordsworth) ایسے مشاہیرِ عالم کے افکار و ترغیبات سے استفادہ کر کے بچوں کو جبلّی اوصاف کو اثباتی طور پر نشونما دی جا سکتی ہے تا کہ اُن کا ودعی جذبہء خیر پروان چڑھے اور شر کے احساسات فنا ہوتے چلے جائیں۔اس منطقہءِ تدریس میں ہم بچوں کے طبائع میں تعلیم و تربیت  کے مفید اثرات کی پرورش کر سکتے ہیں ۔یوں ایک مضبوط بنیادِ تعلیم آگے  کےمراحل میں ہمارے لیے نہایت افادیت پرور ہو گی۔

ذوقی طریقہء تعلیم و رتربیت:-

اس طریقہ کو جماعت نہم سے جماعت د و دہم(Fa, fSC)تک مروج و متداول(IN PRACTICE) رکھنا ہے۔اس میں جندیؒ، عطارؒ، قونویؒ، رومیؒ، سنائیؒ، خاقانیؒ، نظیریؒ، سعدیؒ، شیرازیؒ، بیدلؒ، غالبؒ، حکیم الامت علامہ اقبالؒ، برگساں، فیثا غورث، نطشے، المانوی(گوئٹے) ، ٹیگور ایسے جبالِ فکر و نظر کے اظہارات و رشحات  سے (EXTRACTUATION)  کر کے بچوں کے فطری قابلیتوں کا اثباتی تنوع(POSITIVE GROUTH)  دی جا سکتی ہے تا کہ اُن کا ذوقی رجحان اور وجدانی حظ(iNTUITIONAL tALENT)   بیدار ہو جائے۔وہ اپنا تشخص پا لیں۔کائنات میں اُن کو انسان  کے محوری و جوھری مقام (CENTRAL & ESSENTIAL STATUS)  سے روشناسی ہو جائے۔اس طرح معرفت ِ نفس کا باب کھلے گا۔یہ وہ منزل ِ تعلیم و تربیت ہے جہاں انسان ترغیبی و ترہیبی سطح سے بہت آگے بڑھ کر ذوقی طور پر اقدار (VALUES)  سے مانوس ہو جاتا ہے ۔اب وہ خیر کو با تکلف(FORCE FULLY)  نہیں بلکہ بے تکلف اخیتار کرتا ہے چونکہ اُس نے ترغیبی اور ذوقی طور پر حق کو دریافت کر لیا ہوتا ہے۔

ج) علوی طریقہء تعلیم   وتربیت

اس اختصاصی (CLASSIFIED)  طریقہ کو ڈگری، تعلیقی اور تحقیقی مدارج(BA, MA, MPHIL, PHD)  میں بروئے تدریس رکھا جائے۔یہاں پر مزکورہ مراحل سے گزر کر ایک  مُتَرَغَّب (MOTIVATED & INSPIRED)  اور مُتَزَوَّق   (NATURALIZED QUALIFIED)  جماعتِ طلباء میسر ہو گی جو ایک طبیعت ِ جاذبہ ، نفسِ ناطقہ اور شعورِ باصرہ رکھتے ہونگے۔اس لیول پر ہم اُن کو اعلی افق کی طرف گامزن کریں گے اور حکیم الامت ؒ کا وہ  نعرہ جلوہ گر ہو گا جو انہوں نے بہت یقین سے لگایا:

جہاں اگرچہ دگر گوں ہے قم باذن اللہ

وہی زمیں، وہی گردوں ہے قم باذن اللہ

کیا نوائے انا الحق کو آتشیں جس نے

تری رگوں میں وہی خوں ہے قم باذن اللہ

غمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور ترا

فرنگیوں کا یہ افسوں ہے قم باذن اللہ

علامہ زید گل خٹک صاحب

مشیر روح فورم و آبروئے ملّت

 

 

143 Views
Tag :
Login to post comments
 Professor Allama Zaid Gul Khattak is a renowned Islamic scholar from Pakistan. He has been associated with Voice of America’s (VOA) program Dewa Radio for about ten years where most of the topics with respect to Tasawuf were debated including the life history of about five hundred Sufis from the
Professor Zaid Gul Khattak gave lectures on  VoA ( Urdu) Voice of America Channel for 12 years on subjects like seerat, Hadith , Tassawuf , Poetry and Iqbaliyat 
  • Prev
حکیم الامتؒ کا اظہاریہ اور بیانیہ شعر ہے لیکن خبریہ اور انشائیہ بہت عالمانہ اور محققانہ ہے۔ آپؒ الہامی اور کسبی تاریخ کا بےپناہ مطالعہ اور عبقری مشاہدہ رکھتے ہیں۔ اللہ جلّ شانہ کا ارادہ پہلے تعیّنِ
  • Prev

                                                      
 






معراج  النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم 

 

by Prof Zaid Gul Khattak  Link download                           by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

ولادت حضرت عیسی ' ابن مریم علیہ السلام اور مسلمان


by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

From The Blog

  • چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    حریت از زہر اندر کام ریخت

    جب خلافت نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے آزادی کے  حلق میں زہر انڈیل دیا۔

    پھر حضرتِ اقبال  تاریخ کی طرف جاتے ہیں  ۔ امتدادِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں  مرور ِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں یہ عظیم الشان  اظہار پسند  ایک شعر میں تاریخ کے حال و ماضی و استقبال  کو سمو کے  رکھ دیتا ہے۔ کہ وہ جو حق تھا  بظاہر قلت کے ساتھ رونما ہوا تھا  و قلیل من عبادی الشکور یہی تو حق کی پہچان ہے حضرت ِ طالوت ؑ کی قیادت میں  حزب الشیطان کے ایک سرکش  کے مقابلے میں جب حق آراستہ ہوا تو قرآن میں کیا آتا ہے  ۔

    قرآن ِ عظیم میں رب جلیل کا ارشاد ہے  کہ اُن میں سے کچھ نے فرمایا

    فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ

  • پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد
    پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد


    کعب بن زہیرہ عرب کا مشہور شاعر تھا۔ لُردانِ کفر کے حرص آمیز بہکاوے میں آکر کعب ہجویہ شاعری کرتا تھا اور آقا و مولیٰ محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں شتم کا ارتکاب کرتا تھا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر موہوم خوف کے تحت طائف کی طرف فرار اختیار کر رہا تھا کہ راستے  ح کُن
    اقدس بخشش فرمائی۔امر پیش آیا۔ ناقہ کا رُخ موڑ کر کعب بن زہیر دربارِ عفوِ بے کنار کی طرف واپس پلٹا۔ واپسی کے سفرِ ندامت میں قصیدہ بانت سعاد منظوم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کی۔ میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف معاف کیا بلکہ بطورِ خلعتِ فاخرہ اپنی ردائے 

Support us to spread the love n light

Your contribution can make the difference - Get involved

Upcoming Events

Coming soon فصوص الحکم و خصوص الکلم

Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…