Tassawuf (2)
نِظامت( باطن کا تزکیہ ظاہر کا رویّہ)
تربیتی موضوع میں یہ خاص ہے کہ باطن کا تزکیہ کس طرح کرنا ہے باطن میں سب کچھ موجود ہے مثلًا عقل ہے تو عقل کو راستگی یعنی طالبِ علم کی تربیت ایسے کرنا کہ اس کا عقلی جوہر مائل براستگی ہو جائے۔ عقل ترقی کرکےراست بنتا ہے پھرخرد پھر نہایہ پھر حکمت پھربصیرت
یہ عقل کے پانچ مدارج ہیں جب ایک طالبِ علم ان مدارج سے گزر تا ہے پھر اس کی وہی کیفیت ہوتی ہے جو حکیم الامّت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے:
عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کر
شریکِ زمرۂ ’لَا یحْزَنُوْں‘ کر
خرد کی گُتھّیاں سُلجھا چُکا مَیں
مرے مَولا مجھے صاحِب جُنوں کر!
عقل کے بعد نفس ہے نفس کی معرفت حاصل کرنا، نفس کو ہم نے مطلق استعمال کرکے لوگوں کو یہ باور کرایا کہ نفس بری چیز کا نام ہے لیکن وہ نفسِ امارا ہے جو انسان کی غلطی کی وجہ سے پیدا ہوتا


معراج النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم
by Prof Zaid Gul Khattak Link download by Prof Zaid Gul Khattak Link download
ولادت حضرت عیسی ' ابن مریم علیہ السلام اور مسلمان
by Prof Zaid Gul Khattak Link download
Recent News
عِلم
From The Blog
-
چون خلافت رشتہ از قرآن گسیختچون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
حریت از زہر اندر کام ریخت
جب خلافت نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے آزادی کے حلق میں زہر انڈیل دیا۔
پھر حضرتِ اقبال تاریخ کی طرف جاتے ہیں ۔ امتدادِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں مرور ِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں یہ عظیم الشان اظہار پسند ایک شعر میں تاریخ کے حال و ماضی و استقبال کو سمو کے رکھ دیتا ہے۔ کہ وہ جو حق تھا بظاہر قلت کے ساتھ رونما ہوا تھا و قلیل من عبادی الشکور یہی تو حق کی پہچان ہے حضرت ِ طالوت ؑ کی قیادت میں حزب الشیطان کے ایک سرکش کے مقابلے میں جب حق آراستہ ہوا تو قرآن میں کیا آتا ہے ۔
قرآن ِ عظیم میں رب جلیل کا ارشاد ہے کہ اُن میں سے کچھ نے فرمایا
فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ
-
پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد
کعب بن زہیرہ عرب کا مشہور شاعر تھا۔ لُردانِ کفر کے حرص آمیز بہکاوے میں آکر کعب ہجویہ شاعری کرتا تھا اور آقا و مولیٰ محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں شتم کا ارتکاب کرتا تھا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر موہوم خوف کے تحت طائف کی طرف فرار اختیار کر رہا تھا کہ راستے ح کُن
اقدس بخشش فرمائی۔امر پیش آیا۔ ناقہ کا رُخ موڑ کر کعب بن زہیر دربارِ عفوِ بے کنار کی طرف واپس پلٹا۔ واپسی کے سفرِ ندامت میں قصیدہ بانت سعاد منظوم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کی۔ میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف معاف کیا بلکہ بطورِ خلعتِ فاخرہ اپنی ردائے
Support us to spread the love n light
Your contribution can make the difference - Get involved
Upcoming Events
Coming soon فصوص الحکم و خصوص الکلم