اسماء ، ذات اور صفا ت
اللہ کے اسماءِ حُسنی میں مَجمعُ البحار اسمِ رحمان ہے۔ تمام صفات واسماءِالہٰیہ رحمان کی وسعتوں میں یکجا اور جلوہ فرما
خْلقِ محمدی
مخلوقات میں خلقتِ انسانی  کو اللہ  تبارک و تعالی نے خْلق کی وجہ سے امتیاز اور فضیلت سے نوازا ہے ۔ خْلق  چند ایک افعال 
فردِملّت -١١
فردِملّت -11 تحریر : پروفیسر علامہ زید گل خٹک بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے حکیم

حکیم الامّت حضرتِ اقبالؒ

از : پروفیسر زید گل خٹک

فہرست مضامین-عنوانات

باب اول(افکارِ اقبالؒ)

عنوان

نمبر شمار

عشق، فکرِ اقبال ؒ کی رشنی میں

1.    

ہوس قاطعِ ایمان و اخلاص

2.    

رُوح ِارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

3.    

   مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور مسائل کا حل

4.    

نئے عالمی منظر نامہ پر طلوعِ اسلام

5.    

مسلمان کے عناصرِ کردار

6.    

مثنویء حضرت علامہ اقبالؒ (ترجمہ زید گل خٹک)

7.    

قرآن فہمی فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں

8.    

اقبال کے خطوط اور فلسفہ ءِ خودی

9.    

علامہ اقبالؒ کا تصورِ خودی

10.                  

خودی پر حکیم الامتؒ کے  اشعار اور تشریح

11.                  

افکارِ تازہ

12.                  

ایک قطعہ کا   منظوم ترجمہ

13.                  

خوف و یاس پر حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے  فارسی اشعار اور ترجمہ

14.                  

*نظم"سید کی لوحِ تربت" از حکیم الامت ؒ کی تفسیر*

15.                  

. مسجدِ قُرطُبہ-تفہیم و تشریح

16.                  

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


 

عشق، فکرِ اقبال ؒ کی رشنی میں

عشق را  از صنعۃ اللہ رنگ دہ

عشق را ناموس ا ونام و ننگ دہ

عشق ایک ناقابلِ تسخیر قوت ہے جس کا تعلق جسم و روح و نفس و وجدان سے ہے۔فالواقعہ یہ روح کا نغمہ ہے جو سرِّ قلبِ حقیقی میں مستور ہے اور وجدانی کیفیت میں نَفس کے اندر ظہور کر کے اُسے معرفت کے لیے متحرک کرتا ہے۔اس سے قلب منور و متورع و متوجد ہوتا ہے اور جسم بالیدہ و مطہر۔

حکیم الامتؒ حضرت اقبالؒ اِ ن اسرار و رموز کے خوب خوب شناور تھے۔اس لیے اپنے سرمدی کلام میں ان اشارات و الطاف کو فرد و قوم کی اصلاح و عرفان و استحکام کے لیے بطورِ خاص بروئے کار لاتے ہیں۔

حضرت نے فروغ و تربیت ِ عشق    کے لیے تین اسباب مہیا کرنے کا بلیغ اور پُرحکمت ذکر کیا ہے:-

  • ناموس وہ پوشیدہ جوہر ِ جس میں عشق جذب ہے اور جہاں سے آثارِ عشق پھوٹتے ہیں۔عرفانی اصطلاح میں اِس مرکز و معدن کا نام سِرّ ہے۔حکیم الامت ؒ نے اِس کے لیے ناموس کا خوبصورت لفظ ترغیبی نکتہءِ نظر سے برتا ہے۔عشق کی افزائش کا مقامِ آغاز یہی ناموس ہے۔اِس ناموس کے اندر جلال و جمال کا تماشا مچل رہا ہے۔
  • نام سے مراد آداب و اسماءِ حیات ہیں۔یہ نظامِ عشق کا دوسرا بڑا سرمایہ ہے۔"نام" میں عشق   کی تمام ناسوتی اور خارجی تسخیرات و فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمؑ کو  پہلے آدابِ حیات عنایت فرمائے اور پھر اسماء مرحمت فرمائے جو دراصل تسخیر ِ کائنات کے رموز ہیں۔ناموس و نام کے مراحل طے کرنے کے بعد عشق آبروئے تمام سے شاد کام ہو جاتا ہے اور  ماسوا پر غلبہ پا کر بے نیاز ہو جاتا ہے۔اس احتشام و شکوہ کو حضرت نے "ننگ" کےلفظ سے واشگاف کیا ہے۔
  • اِن تمام فتوحات کے لیے حکیم الامت ؒ نے مصرعِ اولیٰ میں صراطِ الحمید اور زادِ راہ کی نشان دہی کی ہے اور وہ یہ کہ قلب انوارِ اسماءِ الہیہٰ سے منور ہو، اعتقادات جلوہءِ توحید سے مست ہوں۔عبادات پر احسان کا سایہ ہو، اخلاقیات ، صفات ِ الہیہٰ کا پرتو اور مظہر ہوں،معاملات میں عدلِ ربانی کا رنگ جھلمل جھلمل کر رہا ہو۔یہ وہ سیرت و کردار ہے جو خلافت کا سزاوار ہے جس میں "تخلقوا باَخلاق اللہ " (حدیث) اور صبغۃ اللہ ومن  احسن من اللہ صبغۃ(القرآن) کی بہار موجزن ہے۔تفہیمِ عشق پر حضرتِ اقبالؒ کا یہ شعر رُخِ جمال پر خال کے مصداق ہے

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوس قاطعیمان و اخلاص

من شبے صدیق "رض" را  دیدم بخواب

گُل زِ خاکِ راہِ او چیدم بخواب

آن اَمَنَ الناس بر مولائے ما

آن کلیمِ اوّلِ سینائے ما

ہمتِ او کِشت ِ ملت را چو ابر

ثانیء اسلام و غار و بدر و قبر

گفتمش اے خاصہ ء خاصان ِ عشق

عشق ِ تو سرِ مطلعِ دیوانِ عشق

پختہ از  دستت اساسِ کارِ ما

چارہء فرما پئے آزارِما

گفت تا کے در ہوس گردی اسیر

آب و تاب از سورہءِ اخلاص گیر

ربِ جلیل نے انسان کو مجموعہءِ اضداد نہیں، مجموعہء اثبات پیدا کیا ہے۔اضداد، انحراف کے نتیجہ میں روپزیر ہوتے ہیں ۔انسان نیابت و خلافت کے صلہ کے تحت اختیار ِ توفیقی سے نوازا گیا ہے۔اگر اس سرمایہءِ اختیار کو مکارمِ اخلاق کی افزائش و تکمیل میں استعمال کیا جائے تو تثبیتِ سیرت کی جلوہ گری ہوتی ہےا ور اگر اس سرمایہءِ اختیار کو رزائلِ اخلاق  کے لیے بروئے کار لایا جائے تو تخریبِ شخصیت کے آثار رونما ہوتے ہیں۔"قد افلح من زکھا و قد خاب من دسھا" میں یہی پیغام ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔

رزائل ِ اخلاق میں ایک قبیح و مضر چیز ہوس ہے ۔یہ جذبہءِ مقبوح اور داعیہءِ مکروہ شحہءِ نفسِ شحامیہ سے پھوٹتا ہے۔اس کے نتیجے میں انسان اولاََ تو ضرورت کے لیے حدود و قیود سے تجاوز کرتا ہے اور ممدوح سے آگے بڑھ کر معتوہ کے درجہ میں جا پڑتا ہے اور پھر یہی عتّہءِ شعور اُس کو سلبی راستوں پر ڈال  دیتا ہے۔وہ قناعت کی راحت سے محروم ہو  کر حرص کے عقوبت خانہ میں گرفتار ہو جاتا ہے۔حرص کی تسکین اخلاص و توکل میں نہیں، ریا و ہوس میں ہے۔ریا و ہوس دوئی کی بو رکھتے ہیں لہذا ریاکار اور  ہوسناک اخلاص سے معذول ہو جاتا ہے اور وحدت کی وادئء گلرنگ سے در بدر ہو کر ظلمت کے بیابانِ بے اماں میں جا پڑتا ہے۔

اِن ابیات ِ سینہ تاب میں حکیم الامت ؒ نے سورۃُ الاخلاص کی عملیت و اثریت کا فلسفہ بیان کیا ہے۔اپنے ایک رویاءِ صادق کا ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے پیکرِ ایثار و وفا حضرت ابو بکر صدیق(رض)  سے مکالمہ کیا اور تذکیہءِ باطن کے حوالے سے اُن سے فیض بار ہوئے۔فی الواقعہ یہ قوم کی اجتماعی کمزوری کا گریہ ہے جو ترجمانِ ملت نے نقیبِ خطیرۃُ الشفاعۃ کے حضور پیش کیا ہے۔جنابِ صدیق نے  ہوس کے ناسور کی نشاندہی کی ہے اور اِس زخمِ سریان کا درمان سورۃ الاخلاص کی عملیت و اثریت  تجویز فرمایا ہے۔

حکیم الامت ؒ کے اِس تبشیر میں جو اُن کو صدیقِ امۃ کے توسط سے ارزاں ہوئی، قوم کے اُس محوری مسئلہ کا حل پیش کیا جو انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک لحاظ سے اُمُ الامراض ہے۔انفرادی سطح پر ھوسناکی سے شخصیت اور سیرت تباہ ہو جاتی ہے اور ملت کی آبرو برباد ہو جاتی ہے۔

سورۃ الاخلاص ھوس کو جڑ سے اکھیڑ دیتی ہے اس لیے کہ وہ قرآن کا خلاصہ ہے۔وہ قرآنِ عظیم کی سورۃ العنوان  ہے ۔قرآن کا مرکزی و محوری موضوع توحید ہے۔اعتقادات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات  توحید کے مرہونِ منت ہیں۔اگر اللہ ذاتِ مطلق سے رابطہ ءِ محبت  و توکل استوار ہے  تو اعتقادات میں اخلاص، عبادات میں خشوع، اخلاقیات میں رونق اور معاملات میں دیانت از خود در آئے گی۔

ایمان ایک پختہ گمان کا نام ہے۔حدیثِ ربانی  ہے:

انی مع عبدی، عند ظنہ بی

"میں اپنے بندے کے ساتھ اُس کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے"


اُس کی وحدت ہمیں انتشار سے  بچاتی ہے چونکہ انتشار و تقسیم ہَوَس کے قبیح اثرات ہیں۔وحدت کی لازمی برکت اتحاد و اتفاق ہے۔اُس کی صمدیت ہمیں اُس کا نیاز مند بنا کر ماسوا سے بے نیاز کر دیتی ہے۔اُس کی وجودی برکات اعتبارِ صفاتِ الہیہ یعنی حضرتِ انسان کو  حرص، شحت و شہوت، تمرد و فساد، تبزیر و تسریف وغیرھم تمام رزائل و مقبوحات سے پاک کر دیتی ہیں۔اُس کی بے ہمتائی اور عدم کفائَت اس پر ایمان لانے والوں کو فقرِ غیور سے نوازتی ہے۔

بس یہ اِس خوابِ گراں مایہ کی تعبیر ہے اور سورۃ الاخلاص کی اقبالی تفسیر ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رُوح ِارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

کھول آنکھ ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

مشرق سے اُبھرتے ہوۓ سورج کو ذرا دیکھ

اس جلوہء بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ

ایام جدا ئی  کے ستم دیکھ ، جفا دیکھ

بے تاب نہ ہومعرکہء بیم و رجا دیکھ

ہیں تیرے تصرُّف میں یہ بادل، یہ گھٹائیں

یہ گنبد افلاک، یہ خاموش فضائیں

یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں

تھیں پیش ِنظر کل تو فرشتوں کی ادائیں

آئینہء ایاّم میں آج اپنی ادا دیکھ

سمجھے گا زمانہ تیری آنکھوں کے اشارے

دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے

ناپید ترے بحر تخیُّل کے کنارے

پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے

تعمیر خودی کر، اثرِ آہِ رسا دیکھ

خورشیدِ جہاں تاب کی ضَو تیرے شرر میں

آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہُنر میں

جچتے نہیں بخشے ہوۓ فردوس نظر میں

جنّت تری پنہاں ہے ترے خونِ جگر میں

 

 

اے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ

نالندہ ترے عوُد کا ہر تار ازل سے

تُو جنسِ محّبت کا خریدار ازل سے

تُو پیرِ صنم خانہء اسرار ازل سے

محنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سے

ہے راکبِ تقدیرِ جہاں تیری رضا، دیکھ

 

علامہ اقبالؒ کی یہ نظم صنفِ مِخمَس میں ہے۔اس میں زمین پر حضرت آدمؑ اور آنجناب کی ذریۃ کی خلافت کے تقاضے اور تصرفات بیان کیے گئے ہیں۔

پانچ بند پانچ انسانی ستونوں کی تصریح و توضیح ہے۔یہ ستون (Pillars)  ہیں جو انسانی عمران (Human Society)  تشکیل دیتے ہیں۔

  1. فطرت
  2. جدو جہد
  3. معرفت
  4. تصرف و تسخیر
  5. لقاءِ ربانی
  • علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں نہایت عظیم مقاصد کے لیے انسان کو خلافت سونپی گئی ہے۔تمام کائنات اور اس کے اجزا ء خدمات ہیں یعنی ذرائع و وسائل جب کہ انسان کائنات کا مخدوم اور مرکز و محور ہے ۔فطرت دراصل ایک بساط ہے جو اللہ خلاقِ ازل نے انسان کے لیے زمین ، فلک، فضا، مشرق و مغرب، طلوع ِ آفتاب، نورِ قمر، جلوہءِ کواکب، اعتدال و توازنِ اجسام اور آب وگیاہ کی صورت میں بچھائی ہے تا کہ انسان اس بساط پر خلافت کا جلوہ دکھا سکے اور ان تمام مظاہرِ فطرت کی حقیقت جانتے ہوئے اور اِ ن کو تسخیر کرتے ہوئے حقیقتِ مطلقہ تک پہنچ سکے۔یہ ھبوط الی الارض اور فراق دراصلل تلاش کا امکان ہے جو لامکان تک رسائی دیتا ہے۔ابتلا کا یہ سفر بیم و رجا کے زیور و زینت سے آراستہ ہے اور نفی و اثبات کے تصادم میں ایک نہایت پر کشش حسنِ وحدت کی طرف جا رہا
    ہے۔
  • تکوین میں نظم وھبی ہے اور تشریع میں کسبی اور توفیقی ہے۔انسان کا راستہ جدوجہد کا راستہ ہے۔بارش کا نزول اور زرخیز زمین زراعت کا کسب ہے جو خود انحصاری اور خود کفالت کی سبیل ہے ۔دہقان کی محنت ان رحمتوں کو انسانی حیات ک لیے موثر بناتی ہے۔گنبدِ افلاک اور فضا تسخیر کی دعوت ہے جہاں سائنسدان ا پنی  طبیعت کی جولانیاں دکھاتا ہے۔کوہ و صحرا و سمندر وہ جادہءِ فطرت ہے جہاں ہدایت کے کاروان چلتے ہیں۔کسی پر کوہ و غار میں نورِ حقیقت جلوہ گر ہوتا ہے اور صحرا کی بھول بھلیوں میں اسرار و انوار کی تلاش میں مگن رہتا ہے۔رجال الغیب اور خضرِ ؑ سیلانی سمندر کے ساحلِ مراد اور تلاطمِ امواج میں اُس بے نشان و بے مثل کا نشان ڈھونڈتے ہیں۔ملائکہ ؑ جو طاعت پر آمادہ ہیں ان سے بڑھ کر یہ لباسِ بشر درد و داغ اور ذوق و شوق کے زیور سے آراستہ ہے۔
  • پھر جب یہ حضرتِ انسان اپنی حقیقت و حیثیت کا شناور اور ا پنے خالق کی معرفت سے شاد کام ہوتا ہے تو تسخیرِ خلائق کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور محبوبِ کائنات بن جاتا ہے۔مخلوقات کے لیے سراپاء دیدار اور قابلِ رشک بن جاتا ے۔اس کا تخیل دور افتاد گان کو فتح کر لیتا ہے۔افلاک اس کی دعاوں اور جستجو کے زد میں ہوتے ہیں۔ہاں یہ سب کچھ خودی کی تعمیر سے ممکن  ہے۔یہ دراصل معرفتِ نفس(خودی) کی فتوحات ہیں۔
  • تمام مظاہرِ فطرت کی تسخیر اور اُن کی انسانی فلاح کے لیے کام میں لانا ارتقاء کی جولانگاہ ہے۔سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنا، علم و ہنر میں کسبِ کمال کرنا، اپنی جنت خود ایجاد کرنا یعنی اس مادی جہاں کو شوقِ جستجو اور ذوقِ تحقیق سے گلزار بنانا اور کوشش کے تسلسل کو اُس معراج تک پہنچانا جہاں اُس کے خوشگوار اثرات مرتب ہو جائیں۔
  • یہ سب کچھ تلاش ، اُس کے اجزاء اور تکملے ہیں۔اصل کمال اُس حسنِ ازل کا لقاء ہے۔اُس ذاتِ بے ہمتا اور ستودہ صفات کی محبت کا حصول ہے،ا ُن اسرارِ سرمدی اور معانی حسنِ میں ودیعت کیا گیا ہے ۔اس منزلِ بقا کے لیے آرزو کرنا جس کے لیے مجاہدہءِ  نفس سے لے کر جان سے گزر جانے تک کے سارے مراحل شامل ہیں۔

 

   مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور مسائل کا حل

 

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدبیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصرِحاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبرؐ کہیں

(اقبالؒ)

 

            مسلمانوں کے زوال کی وجوہات بیان کرنے سے پہلے ہمیں ان دو باتو ں  کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے

  • مسلمانوں کا زوال اسلام کا زوال نہیں
  • مسلمانوں کے زوال کا تعلق اقدار(Values) سے ہیں۔یعنی جب مسلمان اعلیٰ اقدار کے حامل تھے تب عروج پر تھے اور جب وہ اقدار  پامال ہونا شروع ہوئیں تو وہ زوال کا شکار ہوئے۔

            پہلے نکتہ سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے  کہ اسلام کسی تمدنی فلسفہ یا علاقائی سطح تک محدود نہیں۔عرب کے لوگوں نے جب خلافتِ راشدہ کے بعد سیاسی سطح پر اس سےانحراف کیا تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اسلام ختم ہو گیا۔عجم کے لوگوں نے فنونِ لطیفہ کے حوالے سے اس میں غیر حقیقی  چیزوں کو شامل کیا تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ  اسلام کا تہذیبی رنگ گدلا گیا۔مشرق کے لوگوں  نے  مقامی رسومات کو  اعتقادات کا حصہ بنا لیا تو اسلام کا اصولیاتی نظام ناقابلِ اخذ ہو گیا۔ایسا ہر گز نہیں۔

علامہ اقبال نے ؒ عمدہ پیرائے میں اس بات کا اظہار کیا ہے

"خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی"

            اسلام دراصل کائنات کے لیے اللہ کا منشور ہے اور دنیوی اور اخروی فلاح کے لیے نظامِ الہیٰ ہے۔حضرت آدم ؑ سے لے کر جتنے بھی انبیاؑ آئے اس منشور کی تکمیل اور رسول اللہ ؐ پر اس منشور کی اکملیت ہو گئی۔اس کے بعد روز ِ حشر تک کسی منشورکو نہیں آنا۔احکامات الہیٰ ناقابلِ تبدیل ہیں۔ہاں اس میں اجماع اور اجتہاد کی گنجائش رکھی گئی ہے تا کہ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہونے کے بعد  لوگ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کسی نتیجہ پر پہنچ پائیں۔اس گنجائش کی وجہ یہ ہے کہ معاشرتی اور اقتصادی  تبدیلیاں ہر دور میں ہوتی رہیں گی جن کے ساتھ ضروریات ِ زندگی اور مسائل کی نوعیت بھی تبدیل ہوتی رہے گی۔اس بات کو ہم اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں

کہ زرعی دور کا مفسر صنعتی دور کی Required Values  پر گفتگو نہیں کر سکے گا۔وہ بتا دے گا کہ گندم کے دانا کو آٹا بنا کر کھانا حلال ہے اور اس کی Expansions  کہاں تک ہیں لیکن وہ کھاد پر رائے دینے سے قطاً قاصر ہو گا ۔گوبر ڈالنے سے  زمین زرخیز ہوتی ہے اس پر تو وہ بات کر لے گا اور Justify   کر دے گا کہ گوبر اگرچہ حرام ہے لیکن اس کا خارجی  تعمیراتی اثر دانے کو حرام نہیں کرتا۔لیکن کھاد کے استعمال سے جو دانے کی غذائیت اور جزئیت پر اثر پڑتا ہے اس حوالے سے مفید جائزہ صرف آج کا مفسر لے سکتا ہے۔

مسلمانوں کا زوال فکری سطح پر اسلامی طرزِ فکر چھوڑنے یا اسلامی احکامات کو عملی شکل دینے میں سسُتی برتنے سے ہوا۔

            دو اقدار قابلِ الزکر ہیں جن کو چھوڑنے سے مسلمان زوال کا شکار ہوئے۔


  • خُلقِ عمومی
  • ارتقاء

خُلقِ عمومی سے مراد داخلی اور خارجی نظام کی پائیداری ہے۔نظام سے مراد عدل، مساوات اور احسن رویہ ہے۔یہ تین قدریں دور ِ نبوی ؐ میں عروج پر تھیں اور صحابہ و تابعین کے دور میں بھی کسی حد تک   ان قدروں کو قائم رکھا گیا لیکن بعد میں آہستہ آہستہ یہ قدریں پائمال ہونا شروع ہو گئیں۔

حضرت عثمانؓ کے دور میں عبد اللہ بن ابی صرح اموی ایران کا گورنر نامزد ہو کر جب سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے چارج لینے آیا تو  آپؓ نے فرمایا

"نہیں معلوم تم ہمارے ہمارے پیچھے رہ کر زیادہ سمجھدار ہو گئے کہ ہم یہاں  آ کر بے وقوف ہو گئے"

جواب میں ابن ابی صرح نے کہا

"ابو اسحق   ! یہ تو بادشاہی ہے۔کبھی کوئی اس کے مزے لیتا ہے کبھی کوئی"

یہ بات سن کر حضرت سعدؓ آبدیدہ ہوئے اور فرمایا

"اے نامرادو ! مجھے معلوم تھا تم اٰل ابن ابی معیط اس کو بادشاہی بنا کر چھوڑو گے۔اب ایران ہمارے ہاتھوں سے گیا"

اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جان لیا کہ اب انصاف کی قدر گر جائے گی تب تعصب کے جذبات پیدا ہونگے اور تصادم کی فضا بنے گی۔تصادم کی فضا میں معاشرے زوال کی طرف بڑھنے لگتے ہیں

الغرض خُلقِ عمومی چھوڑ دینے سے معاشرے کا فاتحانہ اور قائدانہ تصور  ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔قومیں رعب اوردبدبہ سے نہیں بنتیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی و معاشرتی اقدار سے پروان چڑھتی ہیں۔حکومتی سطح پر عدل ِ اجتماعی کی قدر ترک کرنے سے  مسلمان عالمی قیادت سے محروم ہو گئے۔

مسلم معاشرے میں تیزی سے زوال پزیری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گرتی ہوئی اقدار اور بگڑتی ہوئی تہذیب کوایسے لوگوں نے بھی سنوارنے کی کوشش نہیں کی جو دینی علوم تو جانتے تھے مگر تاویل سے کام لے کر حقیقی نظریات کو پسِ پشت ڈال دیتے تھے۔غلام لونڈی کا تصور، مالِ غنیمت کا تصور ، ذمی کا تصورمعاشرے میں  جڑ پکڑنے لگا حالانکہ اسلام نے مساویانہ شہریت، عزتِ نفس اور خُلقِ خدا کی فلاح کی قدر عطا فرمائی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام ِ معاشرت اور  فکری سطح پر اپنی من مانی کرنے والوں نے اسلامی نظریات کو بہت نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے فکری زوال کا عمل تیز ہو گیا۔حضرت امام حسینؓ کے ساتھ بہتر مجاہدینِ اسلام نے فکری زوال کو روکنے کی خاطر قربانیاں دیں۔

  مادیت پسندی نے بھی مسلمانوں کو زوال کی طرف دھکیلا۔

الغرض فکری زوال کے بعد Sustaining  کا واحد ذریعہ عسکریت اور مادیت تھی۔جو پائدار زریعہ نہیں ہے بلکہ کمزور طرزِ عمل ہے ۔چونکہ یہ ذریعہ مخالفت اور مقابلہ کی زد میں ہوتا ہے اور آخر ِ کار  شکست خوردہ ہو جاتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ خُلقِ عمومی کو کن عوامل کی وجہ سے نقصان پہنچا۔اگلا جزوی ستون ارتقا کا مزاج  Follow  نہ کرنے کی وجہ سے ہوا۔جن لوگوں نے ارتقاء کے لیے جدو جہد کی ، ان کے نظریات کو نہ صرف پسِ پشت ڈالا گیا بلکہ ان پر طرح طرح کے الزامات بھی لگائے گئے۔ابنِ ھیشم ؒ، ابن ماجہؒ، ابن طینؒ، ابنِ سیناؒ، فارابیؒ، یعقوبیؒ، نسائیؒ، مسکویہؒ، ابنِ عربیؒ، ابن ِ رشیدؒ، جیسے جدت پسند سائنسدانوں کی فکر کو بھی قدامت پسند لوگوں نے سمجھنے سے انکار کر دیا۔مسلم معاشرہ سائنسی دور میں ارتقا کی منازل طے نہ کر سکا اور یوں یورپی اقوام مسلمانوں کو مادی  اور عسکری میدان میں شکست دے کر عالمی افق پر نمودار ہو گئیں۔یاد رہے کہ مغربی اقوام غالب تو ہو گئے مگر خُلق ِ عمومی(مراد عدل، مساوات اور احسن رویہ) سے محروم ہیں۔یہی وہ طاقت ہے جس کے بل بوتے پر مسلمان قیادت کا منصب دوبارہ سنبھال سکتے ہیں مگر اس کا واحد راستہ اسوہءِ حسنہ پر عمل پیرا ہونا ہے۔

 

نئے عالمی منظر نامہ پر طلوعِ اسلام

دلِ طُورِ سینا و فاراں دو نیم

تجلی کا پھر منتظر ہے کلیم

مسلماں ہے توحید میں گرم    جوش

مگر دل ابھی تک ہے زنار پوش

تمدن تصوف، شریعت، کلام

بتانِ عجم کے پجاری تمام

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایات میں کھو گئی

یہ اشعار علامہ اقبال ؒ کی مشہور مثنوی "ساقی نامہ" سے انتخاب کیے گئے ہیں۔ساقی نامہ میں کل سات بند ہیں جو کہ سات موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ہم انھی اشعار پر  اکتفا کریں گے۔ان اشعار میں اقبالؒ نے ان کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے امتِ مسلمہ زوال کا شکار ہوئی۔مغربی اقوام نے  مسلمانوں کی معاشی، سماجی، معاشرتی اور اقتصادی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیادت کا منصب سنبھال لیا۔بلا شبہ انھوں نے سائنسی، صنعتی اور تکنیکی میدانوں میں فتوحات اور ایجادات کیں اور انقلاب برپا ہوا۔دنیا کی معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی صورت ِحال بھی  تبدیل ہو گئی مگر حرص وہوس کا بازار گرم ہونے لگا اور لوگ اخلاقی سطح سے گرنے لگے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی عدل، شفاف معاشرتی اقدار، توحید اور تقویٰ کے بغیر  ترقی انسانی زندگی پر اچھے اثرات مرتب نہیں کرتی۔اسلامی تہذیب و تمدن مساوات کا راستہ دکھاتی ہے جبکہ مغربی تہذیب سرمایہ دارانہ نظام کو ترجیح دیتی ہے  جس کی وجہ سے غلامانہ زندگی پروان چڑھتی ہے ۔

اس کمی اور فقدان کو صرف امۃِ رسولِ ؐہاشمی پورا کر سکتی ہے جو قیادت کی اصل مستحق ہے۔لیکن علامہ اقبالؒ پہلے ان سے شکوہ کرتے ہیں کہ انہوں نے گھر کی حفاظت کرنے کے بجائے اسے نقصان پہنچایا۔

پہلے شعر میں اقبالؒ نے کلیم اللہ  حضرت موسیٰ   ؑ کی طرف اشارہ فرمایا ہے  جنھیں کوہِ طور پر اللہ نے اپنی تجلی سے نوازا تھا۔اقبالؒ فرما رہے ہیں کہ اس کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔یعنی منزل کو پانے کے لیے محنت و جستجو ضروری ہے۔حالات کے سامنے سر جھکانے کے بجائے تدابیر نکالنی پڑتی ہیں۔

دوسرے شعر میں زنار پوش  اور توحید کا ذکر آیا ہے۔زنار اس دھاگے کو کہتے ہیں جو ہندو گلے اور بغل کے درمیان ڈالتے ہیں۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اگرچہ مسلمان توحید کے دعوے تو بہت کرتا ہے مگر توحید کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔بلکہ دل زنار پوش ہے۔یعنی مسلمان ہونے کے باوجود دل  مغربی تہذیب و تمدن کی طرف مائل ہے۔اسی وجہ سے اپنی شناخت کھو رہا ہے۔عقیدہ فکر میں بے شک جوش کے ساتھ رونما ہو لیکن اگر عمل میں ہوش کے ساتھ رونما نہ ہو تو   اس کے اثرات معاشرتی اقدار پر مرتب نہیں ہو سکتے۔

تمدن کسی بھی معاشرے کے رہن سہن، بول چال، ثقافت و تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔تصوف کا ادارہ سیاسی زوال کے باوجود بھی مسلمانوں اور اقدار کی  حفاظت کا ضامن ہوتا ہے۔شریعت قرآن و سنت کی صورت میں ایک ایسا دستور العمل ہے جو زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ علم الکام سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور فکری سطح پر گمراہ ہونے سے بچاتا ہے۔تیسرے  شعر میں اقبال ؒ نے ان چاروں شعبوں کے حوالے سے منفی رجحانات کی نشاندہی کی ہے۔جیسے مسلمان اسلامی تمدن سے دور ہو گئے۔صوفیا  نے گوشہ نشینی اختیار کر لی اور معاشرے میں مجاہد کی حیثیت سے کام کرنا چھوڑ کر اپنی فکر میں لگ گئے۔جو راستہ قرآن و سنت نے دکھایا تھا اُس سے ہٹ گئے اور علماء ِ اکرام فرقہ وارانہ تصادم میں مبتلا ہو گئے ۔

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایات میں کھو گئی

یہ شعر پچھلے تینوں اشعار کا خلاصہ ہے۔خرافات کا مطلب ہے بے کار کی باتیں۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ امت مسلمہ نے سچائی کا راستہ چھوڑ دیا ہے اور  لوگ بےکار کی باتوں میں پڑ کر نہ صرف وقت کا ضیاع کر رہے ہیں بلکہ ایسی روایات پروان چڑھ رہی ہیں جو بظاہر تو فائدہ مند نظر آتی ہیں مگر ان کے اثرات منفی ہوتے ہیں


 

 مسلمان کے عناصرِ کردار

قہاری و غفاری قدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

روح فورم کی گزشتہ نشستوں میں  قرآن و حدیث اور فکرِ اقبالؒ کی مدد سے اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے اور خلیفہ کا مطلب اللہ کی صفات پر یقینِ کامل لا کر اس کی پیروی اختیار کرنا ہے۔

علامہ اقبالؒ نے اس شعر میں ان چار صفات کا ذکر کیا ہے جو مسلمان کے سیرت و کردار میں شامل ہیں۔انھی صفات کی بدولت انسان زندگی کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے قابل  بنتا ہے۔

پہلی صفت قھاری ہے۔قھار، قاھر اور غالب و عزیز اللہ کے پاک نام ہیں۔

 وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ 

"اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح متصرف"غلبہ رکھنے والا" و مقتدر  "قدرت رکھنے والا"ہے)

قَھَرَ میں ضبط، ربط اور غلبہ کے معانی ہیں۔یہ اسم ِ مبارک اور اس کے اثرات کردار میں ضبطِ نفس کا رنگ بھرتے ہیں یعنی انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کے قابل ہو جاتا ہے اور راہِ مستقیم سے نہیں ہٹتا۔رسول اللہ ؐ کو اللہ نے  تزکیہ کی تعلیم دینے کا حکم دیا۔دنیاوی آلائشوں سے خود کو پاک رکھنے کے عمل کا آغاز اپنے نفس پر غلبہ پانے سے شروع ہوتا ہے ۔ کردار سازی کے سفر میں پہلا قدم ضبط ِ نفس ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُونَ

(قابو پا لیتے ہیں پس وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں)

done

انسان جب تک اپنا وجود فتح نہ کر لے کائنات کی تسخیر نہیں کر سکتا۔جب تک انسان تکبر، جھوٹ، فریب، حرص جیسی آلائشوں سے اپنی ذات کو پاک نہیں کرتا  تب تک اس سےفلاح کی خوشبو نہیں آ سکتی۔اس لیے ضروری ہے کہ قھاری کی صفت اختیار کر کے ان تمام زہر آلود پتوں کو کاٹ کر ایسا  شجر بن جائے جس کی شاخوں پر  اخوت  و رواداری کے پھول کھلتے ہیں۔قھاری انسان کی وہ  خصوصیت ہے جس کا تعلق باطن سے ہے۔

غفاری کردار کی خارجی خصوصیت ہے اور اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔اقبال ؒنے قھاری کے بعد غفاری کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ انسان میں پہلی خصوصیت کے پیدا ہو جانے کے بعد  اس کے  عقل و شعور میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں اور وہ  تمام معاشرتی اور سماجی مسائل کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔غفار اللہ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب ہے بہت بخشنے والا، معاف کرنے والا۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اب انسان غفاری کے مرحلے  میں داخل ہو گا۔صبر تحمل سے کام لے گا۔قرآن نے اس خصوصیت کو خاص طور پر اجاگر کیا ہے۔

فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمیل

(اور احسن طریقے سے درگزر کرو)

فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا

(عفو اختیار کرو اور درگزر کرو)

وَالّذینَ اذا مروا بالغو  مرو اکراماً

(یہ وہ لوگ ہیں جب کوئی ان سے ناشائستہ رویہ اختیار کرتا ہے تو وہ کریمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں)

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا

(رحمن کے بندے زمین پر وقار کے ساتھ رہتے ہیں اور اگر کوئی ان سے جہالت سے پیش آتا ہے تو وہ سلامتی و آشتی کا مظاہرہ کرتے ہیں)

قدوس بھی اللہ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب ہے ہر نقص و عیب سے پاک۔جب انسان غفاری اور قھاری کے مرحلہ سے کامیاب گزر جاتا ہے تو وہ قدوسی ہو جاتا ہے۔اب وہ اجتماعی عدل، حسنِ سلوک اور مساوات  کو عملی طور پر اپنا کر امامت کے فرائض ادا کر سکتا ہے یعنی اس میں لیڈر شپ کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ رہنما کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

جبروت کا لفظی معنی ہے عظمت والا ۔اقبالؒ نے اس شعر میں کہا ہے کہ جب مسلمان   تینوں مراحل سے گزرتاہے تو جبروت کا مقام حاصل کر لیتا ہے یعنی اللہ اسے بلند مرتبہ اور وقار عطا فرماتا ہے۔اقبالؒ نے اس شعر میں کتاب و سنت کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے زندگی کا پورا نصاب واضح فرمایا ہے۔

 

 


 

مثنویء حضرت علامہ اقبالؒ (ترجمہ زید گل خٹک)


حضرتِ شیخ میاں میرولیؒ

ہر خفی از نور جانِ اوجلی

 

بر طریقِ مصطفے محکم پئے

نغمۂ عشق و محبت را نئے

 

تربتش ایمان خاکِ شہر کا

مشعلِ نور ہدایت بہر ما

 

بردر اُو جبہ فرسا آسماں

از مرید انش شہِ ہندوستاں

 

شاہ تخمِ حرص در دِل کاشتے

قصدِ تسخیر ِ ممالک داشتے

 

از ھوس آتش بجاں افروختے

تیغ را ھل مِن مزید آ موختے

 

در دکن ہنگامہ ہا بسیار بود

لشکرش در عرصہءِ پیکار بود

 

رفت پیشِ شیخِ گردوں پابہءِ

تابگیر د از دعا سرمایہءِ

 

مسلم از دنیا سوئے حق رَم کند

از دعا تدبیر را محکم کند

 

شیخؒ از گفتارِ شہ خاموش ماند

بزمِ درویشاں سراپا گوش ماند

 

 تامریدے سکّہِ سیمیں بدست

 لب کشود و مہُر خاموشی شکست

 

گفت ایں نذرِ حقیر از من پزیر

اے زِحق آوارگاں را دستگیر

 

غوطہ ہا زد در خوئے محنت تنم

تا گرہ زد درہمے را دامنم

 

گفت شیخؒ ایں زرِ حق سلطان ِ ماست

آنکہ در پیراھنِ شاھی گداست

 

حکمرانِ مہرو ماہ و انجم است

شاہِ ما مفلس ترینِ مردم است

 

دیدہ بر خوانِ اجانب دوخت است

آتشِ جو عش جہانے سوخت است

 

 

قحط و طاعون تابعِ شمشیر ِ او

عالمے ویرانہ از تعمیر ِ اُو

 

خلق در فریاد از ناداریش

از تہید ستی ضعیف آزار یش

 

سطوتش اہلِ جہاں را دشمن است

نوعِ انساں کارواں ، او رہزن است

 

از خیال ِ خود فریب و فکرِ خام

می کند تاراج را تسخیر ِ نام

 

عسکرِ شاہی و افواجِ غنیم

ھر دو از شمشیر جوعِ او دو نیم

 


 

آتشِ جانِ گدا جوعِ گداست

جوعِ سلطان ملک و ملّۃ را فناست

 

حضرت شیخ میاں میر قادریؒ جن کے نور ِ باطن سے پوشیدہ اسرار ظاہر ہوتے ہیں

انؒ کی طریقت شریعتِ مصطفی ؐ کی پرتو ہے، ان کے نئے قلب (دل کی بانسری)  سے الست کے  نغمے پھوٹتے ہیں

ان کی تربتِ پاک کی خاک سے ہند کی سرزمین میں ایمان کے جوت جاگتے ہیں۔اُن کا نورِ ہدایت (حضرت کے ملفوظات کی طرف اشارہ ہے جس کا مطالعہ علامہ ؒ بے وضو نہیں کرتے) میرا سرمایہءِ ذوق و کیف ہے

اُن کے در پر آسماں جبہ تان کر سایہ کرتا ہے (حضرتِ شیخ کی کرامت کی طرف اشارہ ہے۔آپؒ جب سخت دھوپ میں رشدو ارشاد کی محفل جماتے تھے تو ابر کا سایہ آسماں پر نمودار ہو کر محفل پر چھا جاتا تھا) ،آپؒ کے مریدوں میں شاھانِ ھند بھی شامل تھے

ایک روز اورنگ زیب عالمگیر جس نے دل کی کھیتی میں حرص کا بیج بویا تھا۔زرو جواہر کے انبار بطور نذرانہ لے کر حضرت ِ والا جناب کی خانقاہ میں حاضر ہوا۔اس کا دلِ تسخیر ممالک کا ارادہ لیے ہوئے تھا

اُس کی ھَوَس نے اُس کے جان میں آباد روحِ سرمدی کو جلا دیا تھا۔اس کی تلوار سے ھل من مزید کے شعلے نکل رہے تھے

دکن میں ایک عرصہ سے مرھٹوں کے ساتھ ھنگامہ برپا تھا۔عساکرِ شاہی پیکار میں مبتلا تھے لیکن فتح کو ترس رہے تھے

صورتِ حال کی سنگینی دیکھ کر اورنگ زیب تدبیر سے مایوس ہو گیا اور درِ تقدیر پر حاضر ہوا۔شیخ ِ گردوں نواز حضرت میاں میرؒ کے دربار میں چلا آیا تا کہ دعا سے سرمایہ دار ہو جائے

عرض کرنے لگا! حضور ِ والا تبار! مسلمان جب دنیاوی تدابیر سے دل شکستہ ہوتا ہے تو حق کی طرف رخ کرتا ہے اور دعاءِ کاملین سے اپنی تدبیر ِ دنیوی کو محکم بناتا ہے

جب بادشاہ گفتگو کر رہا تھا تو حضرت خاموش تھے۔پوری محفل سراپا گوش تھی کہ درِ قلندر سے اب جلال کی بارش ہونے والی تھی۔پہلی دفعہ بادشاہ حضوری کے وس پڑ گیا تھا اور دربارِ معانی میں آ گیاتھا

اس دوران ایک مرید ِ محنت کش اور وفا کیش نے چاندی کا سکہ نکالا (اور حالت یہ تھی کہ بادشاہ شاہی خزانے کے لعل و جواہر شیخ ِ معانی کے قدمین پر نچھاور کرنے کے لیے بے تاب تھا) ان مریدِ حق رسید نے مہرِ سکوت توڑا اور گویاں ہوا

جناب ِ والا تبار! یہ حقیر نذرانہ مجھ سے قبول کر لیں۔اے وہ جو گم کردہ راہوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو شاہراہِ ہدایت پر گامزن کرتے ہیں

میں نے کسب و محنت کا خون پسینہ ایک کیا تب حلال اور طیب کا ایک دانہ ءِ درھم میرے دامن میں آیا

حضرتِ شیخ نور افشاں ہوئے! یہ زرِّ حق و حلال میرا سلطان )سرمایہ(Capital- ہے۔یہ بات انہوں نے کہی جو بباطن بادشاہ تھے۔ظاہر میں درویشی کی عبا زیب تن کی تھی

یہ اورنگ زیب جو نگینے زمرد، نیلم، زبر جد، حریر وریشم، گوھر و انجد، لعل ِ یمانی و بدخشانی اور وسائل ِ سلطنت رکھتا ہے اور بطور شکرانہ میرے پاس لایا ہے۔میری دعا کو دغا سے خریدنا چاہتا ہے۔یہ بادشاہ میرے نزدیک مفلس ترین ہے۔بادشاہ لرزہ براندم ہوتا گیا۔اس سے پہلے اُس کی آنکھ نے شمشیرِ قلندری کی کاٹ نہیں دیکھی تھی

شیخ ِ معانی نواز کی گفتگو کا طنطنہ جاری رہا۔یہ دوسروں کے دستر خوان پر نظریں جمائے رکھتا ہے۔اس کی جوعِ حرص و ھوس نے جہاں جلا دیے ہیں

اس کی شمشیر کی برکات قحط و طاعون کے علاوہ اور کیا ہیں۔یہ اپنی تعمیرِ ہوس کے لیے دنیا کو ویران کر رہا ہے

بادشاہ کو روحِ حسینی کا سامنا تھا۔شیخ کا بیان جاری تھا۔ اس کی ناداریاں پوری اور ختم نہیں ہو رہیں، خلقِ خدا فریاد کر رہی ہے۔اس کی  تہید ستی سے ضعیف آزار ہو رہے ہیں

اس کا شکوہ اہلِ جہاں کا دشمن ہے۔یہ کاروانِ نوع ِ انسانی کا رہزن ہے

اپنی خود فریبی اور خام فکری سے تاراج کو تسخیر کا نام دے رہا ہے

شاہی لشکر اور مفتوح افواج دونوں اس کی شمشیر ِ جوع سے دونیم ہیں

گدا کی بھوک گدا کی جان جلاتی ہے اور بادشاہ کی بھوک ملک و ملت کو جلا کر فنا کر دیتی ہے

اس خطابِ مستطاب کے بعد شیخ ِ گردوں نواز حضرتِ والا تبار میاں میر قادریؒ نے بادشاہ کے سارے نذرانے واپس کر دیے اور محنت کش مرید کا پیش کیا ہوا وہ چاندی کا سکہ اس کو ھبہ کر دیا  اور فرمایا

یہ لو غافل! تین دن روزہ رکھو۔پھر ہر روز اس سکہ سے مہیا دستر خوان ِ نعمت سے افطار کرو۔پھر لشکرِ طغیان پر حملہ کرو۔فتح ہو گی۔لیکن شاد کامی کے بعد ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو فاتح ِ مکہؐ نے اہلِ مکہ سے کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 


 

 

 

قرآن فہمی فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں

قرآن ِ کریم رسول اللہ ؐ کے سینہ ءِ اطہر پر نازل ہوا۔اس کی خاصیت اور افادیت خوداس کے اندر بیان ہوئی ہے۔قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

"بے شک یہ قرآن مضبوط اور پائیدار راہِ حیات اور دستور العمل کی طرف ہدایت دیتا ہے اور اُس کو اختیار کرنے والے لوگوں کو بشارت دیتا ہے"

رسول اللہ ؐ نے وصال سے قبل   راہِ ہدایت کے لیے جن تین چیزوں کا ذکر فرمایا تھا ان میں قرآنِ عظیم پہلے نمبر پر ہے۔

جتنے بھی ادوار دنیا میں گزرے ہیں۔عروج اور زوال دونوں صورتوں میں علماء اور مشاہیر نے امت کی توجہ قرآنِ عظیم کی طرف دلائی ہے۔    زرعی ، صنعتی اور تجارتی تبدیلیلوں سے جہاں سماجی اقدار میں تبدیلیاں رونما ہو ہوئیں اور معاشرتی  تقاضے بدل گئے اقبالؒ جیسے  فلاسفر کو اللہ نے رہنما بنا کر بھیجا۔آپ کو  اسلامی اور مشرقی سلسلۃ الفکر میں اہم مقام حاصل ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے۔

فکرِ اقبالؒ قدیم اور جدید علوم سے لبریز ہے۔قدیم علوم اور مذہبی نظریات پر آپؒ کو عبور حاصل تھا۔آپؒ اپنے افکار کے لحاظ سے اُس منصب پر تھے کہ امۃ مسلمہ کو کسی بھی معاملے کے بارے میں حتمی رائے دےسکتے تھے اور آپ نے دیے۔

آپؒ نے نشاندہی فرمائی کہ ہمارا  زوال معاشرے میں ایسی معاشرتی، تعلیمی اور اقتصادی رجحانات کی وجہ سے ہوا جو اسلامی تعلیمات کی منافی تھے۔سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت نے منفی اثرات مرتب کیے اور نچلے طبقوں سے خوشحالی  کے مواقع چھین لیے۔خانقاہ سے جڑے ہوئے لوگوں نے جب اسلامی روایات سے روگردانی کی اور معاشرتی اصلاح کو اپنا فریضہ سمجھنا چھوڑ دیا تو  اس کے  اثرات نے بھی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کا اندازہ ہم موجودہ حالات سے لگا سکتے ہیں ۔اسی لیے آپؒ نے فرمایا

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

آپؒ اس بات کے قائل تھے کہ زندگی کے مقصد کو سمجھ کر معاشرے کی بہتری کے لیے ایک مجاہد کی طرح اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ورنہ لوگ جمود کا شکار ہو جائیں گے اور ابھرتے ہوئے نئے معاشرتی تقاضوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے فرمایا

از شگر فیہائے آن قرآں فروش

دیدہ ام روح الامیں ؑ را در خروش

قرآنی تعلیمات سے دوری کو اقبالؒ مسلمانوں کی معاشرتی اور سماجی ابتری کی سب سے بڑی وجہ گردانتے ہیں۔چنانچہ ارمغان ِ حجاز میں فرماتے ہیں!

جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں

ہے وہی سرمایہ داری بندہءِ مومن کا دیں

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں

بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

فہم قرآن کے حوالے سے اقبالؒ کے اشعار ملاحضہ فرمائیے

 

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر

تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

موجودہ دور میں اگر آپ دیکھیں تو یہ بات واضح ہے کہ ہر کوئی اپنے مطلب کا مفہوم قرآنی آیات سے اخذ کرنے میں ماہر ہے۔ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء اپنے نظریات کے مطابق دلائل پیش کریں گے۔ایسی صورت ِ حال میں عام اور کم فہم آدمی الجھن کا شکار نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول، وہی آِخر

وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہ

اس شعر میں واضح طور پر اقبالؒ نے فرمایا ہے کہ صرف وہی راستہ راہِ ہدایت ہے جو ہمارے پیارے نبیؐ نے امت کو دکھایا۔اگر ہم اسوہءِ حسنہ سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار کریں گے تو نہ صرف بھٹک جائیں گے بلکہ بڑے نقصانات کا سامنا بھی کریں گے۔

ہر کہ کاہ وجَو خورد قرباں شَوَدْ

ہر کہ نورِ حق خورد قرآں شَوَدْ

اس شعر میں علامہ اقبالؒ نے اس بصیرت کی بات کی ہے  جس کی روشنی سے  قرآن کو سمجھنے کے بعد مومن کا دل روشن ہو جاتا ہے اور وہ دنیا کے حقائق سمجھنا شروع ہو جاتا ہے۔

اسی قرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم

جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ قرآن ِ عظیم ایسی صورت میں سخت احکامات بھی جاری کرتا ہے  جب مومن نفسانی خواہشات کو اپناتا ہے اور صرف دنیاوی فائدے کے لیے برسرِ پیکار ہو جاتا ہے 

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

اقبالؒ ایسے علماء سے شکوہ فرما رہے ہیں جو دوسروں تک اسلامی تعلیمات تو پہنچاتے ہیں مگر ان کی روشنی میں اپنی زندگی اور مصروفیات نہیں بدلتے۔اس طرزِ عمل سے وہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ 

یہ راز کسی کو نہیں  معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں قرآن

جس طرح ام المومنین حضرت عائشہؓ نے میرے آقاؐ کے بارے میں فرمایا تھا

"کاَنَ خُلُقُہُ الْقُرْآن"

اور آپؐ نے سیدنا علیؓ کے بارے میں فرمایا تھا

"ھُوَ قُرآنُٗ ناَطِقُٗ

اقبالؒ فرماتے ہیں کہ مومن قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔اس کے اخلاق و کردار میں اسلامی ضابطہءِ حیات کی جھلک نظر آتی ہے۔

قرآں میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں

اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار

ترقی کا راز قرآنِ کریم میں پوشیدہ ہے۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اپنے کردار کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے قرآن سے رجوع کریں۔قرآن ہر دور کے لیے لائحہءِ عمل فراہم کرتا ہے

 

 


 

اقبال کے خطوط اور فلسفہ ءِ خودی

اگرچہ علامہ اقبالؒ کے خطوط میں تصورِ خودی کے حوالے سے زیادہ  تذکرہ نہیں ملتا مگر کچھ اشارے ایسے ملتے ہیں جو تصورِ خودی کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔جب  پروفیسر نکلسن نے اسرارِ خودی اور رموزِ خودی کا انگریزی ترجمہ کیا تو مغرب میں مقبول  ہوا۔آپؒ نے انھیں تفصیل سے ایک خط لکھ کر نہ صرف دبی آواز میں  ان کے کام کی ستائش کی بلکہ کچھ ضروری نکات کی توضیح بھی فرمائی۔

پروفیسر نکلسن نے گو کہ ترجمہ کرنے میں خاصی مہارت سے کام لیا مگر  چونکہ اقبالؒ کے کلام میں تصوف اور روحانیت کے مضامین تھے اس لیے اس کا ترجمہ کرنے کے تقاضے وہ اچھی طرح سے پورا کر سکتا تھا جس کی اپنی طبیعت بھی تصوف اور روحانیت کی طرف مائل ہو۔اس لیے علامہ اقبالؒ کو بہت سی جگہوں پر ترامیم اور اصلاح کرنے کی ضرورت پیش آئی۔خاص طور پر ان کی یہ ایک کوتاہی تھی کہ اقبالؒ کے فلسفہ ءِ خودی کو نطشے (جو کہہ ایک جرمن فلاسفر تھا) کے نظریات کے ساتھ پیوست کیا۔علامہ اقبالؒ نے جس طرح خودی کو مفہوم اور اس کے مراحل بیان کیے ہیں انھیں محض خیالی طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔اسی لیے وہاں کے تبصرہ نگاروں نے آپؒ کے فلسفہ ءِ خودی کو نطشے کے افکار  سے اخذ شدہ تصور  یا تسلسل سمجھا۔حالانکہ ایسا بالکل نہیں تھا۔ممکن ہے کہ اس کی  وجہ یورپ کا متعصبانہ رویہ بھی ہو۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ  محکوم قوم میں اقبالؒ جیسا فلاسفر آ کر  سچائی اور حقیقت کا پرچار کرے گا اور یوں خواب ِ غفلت میں سوئے ہوئے لوگ بیدار ہو جائیں گے اور ان کی اجارہ داری ختم ہو جائے گا۔اور پھر ایسا ہی ہوا۔جب کسی قوم میں تصورِ خودی اجاگر ہو جائے تو وہ خوشحالی و ترقی کی منزل تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتی ہے ۔یہی وجہ تھی کہ اقبال ؒ نےخودی پر زور دیا۔

نطشے اس شخص کو انسانی رتبے سے بلند قرار دیتا ہے جو خودی کے مراحل طے کر چکا ہوتا ہے یوں اس کی اتباع ممکن نہیں ہوتی۔جبکہ علامہ اقبالؒ اسے کامل انسان قرار دیتے ہیں جس کی اتباع لازم ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اہلِ یورپ کی بڑی غلطی یہ ہے کہ جب علامہ اقبالؒ نے  نظریہءِ خودی پیش کیا اس وقت انہوں نے نطشے کی کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے کئی ابہام پیدا ہوئے۔علامہ اقبالؒ نے یورپ جانے سے پہلے جو اشعار کہے تھے ان سے بھی خودی کے حوالے سے منفرد اور ذاتی تصور سامنے آتا ہے۔مثلاً ایک آسان سا شعر دیکھیں

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اس شعر میں اقبالؒ نے انسانِ کامل یعنی رسول اللہؐ کی بات کی ہے جو خودی کے اس بلند مقام پر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان کی خواہشات کو مقدم رکھتی ہے۔علامہ اقبالؒ کے اس نظریہ کا تعلق قرآنِ عظیم سے ہے جس کا تعلق نطشے کے نظریہ سے ہو ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ سورۃ والضحیٰ میں فرماتا ہے

 وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ 

"اور عنقریب آپؐ کا رب ، آپؐ کو اتنا کچھ عطا کرے گا کہ آپؐ راضی ہو جائیں گے"

البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

 ولقَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا

"اور بے شک ہم آپؐ کا چہرہءِ انور بار بار اوپر ہماری طرف اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ہم ضرور آپؐ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے آپؐ راضی ہیں"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 


 

 

 علامہ اقبالؒ کا تصورِ خودی

خودی کی اصطلاح کا اقبالیات میں اہم مقام ہے اور علامہ اقبالؒ نے اسے مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے۔جس مفہوم میں علامہ اقبالؒ نے اس لفظ کو  استعمال کیا ہے شایدہی ادبی دنیا میں کسی نے ایسا کیا ہو۔یہ لفظ اپنے اندر سمندر سمیٹے ہوئے ہے۔

عارف جلال الدین رومیؒ نے جن معنی میں خودی کو استعمال کیا وہ معرفتِ ذات کے قریب قریب ہے۔شیخ اکبر محی الدینؒ کا فسلفہءِ وحدۃ الوجود اور نظریہ ءِ حقیقۃِ محمدیہّ کسی حد تک اسی مفہوم کی عکاسی کرتا ہے۔

 

اگر ہم علامہ اقبالؒ کے  اردو اور فارسی میں لکھے ہوئے سارے تحریری کام کا جائزہ لیں تو اس لفظ میں ایمان و عمل اور  ایمان و عمل کے نتیجہ خیز برکات سب شامل ہیں۔خودی مفہوم کے حوالے سے اتنی وسعت رکھتا ہے کہ مختصر وقت میں اس کا احاطہ کرنا کافی مشکل ہے ۔ہاں مختلف نشستوں میں اس پر گفتگو کی جائے تو اسے سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔

علامہ اقبالؒ کے اشعار کی باقائدہ تشریح و توضیح سے پہلے ہمارا یہ جاننا ضروری ہے کہ حضرت  خودی کی تفصیلات میں مندرجہ ذیل نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے خواہشمند ہیں۔

  1. معرفتِ ذات
  2. کائنات اور فطری مظاہر کا جاننا
  3. وسائل حیات کا برقرار رہنا
  4. آفاق میں انسان کی اہمیت کو سمجھنا
  5. شہود اور وجود کا باہمی ربط
  6. خالقِ کائنات اور باعثِ تخلیق ِ کائنات یعنی اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے ہمارا تعلق
  7. کائنات کے راز اور ان کا ادراک
  8. ضبطِ نفس اور تسخیر ِ کائنات
  9. انسانی وحدت کی عادلانہ رہنمائی

 

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا

کن فکاں ایک قرآنی تلمیح(Demonstration) ہے اور اس آیتِ مبارکہ ی طرف اشارہ ہے۔

"بے شک اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کی تخلیق یا ظہور کا ارادہ فرماتا ہے تو کہتا ہے ہو جا۔پس وہ ہو جاتی ہے" (سورۃ یسٰ)

کائنات کی ابتدا اللہ ہی کی منشا ، تدبر اور حکمت سے ہوئی۔قرآن ِ مجید میں تقویٰ ، فلاح، احسان اور تزکیہ کے الفاظ علامہ اقبالؒ کے فلسفہءِ خودی کی اساس نظر آتے ہیں۔

اسوہءِ حسنہ میں توحید کی عملیت، محبت و مودت کی ھمہ گیری، کائنات میں انسان کی مرکزیت اور اخلاقِ حسنہ کی وسعت کی تعلیمات "خودی" کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

دوسرے معنوں میں اقبالؒ کا تصورِخودی فردِ معاشرہ کے لیے دستورِ عمل ہے۔

اب ہم شعر کی تشریح کی طرف آتے ہیں۔

"اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا" سے مراد حضرت کے نزدیک فیض ِ نظر ہے اور فیض ِ نظر کا مطلب فیضانِ محمدیؐ ہے۔علامہ اقبالؒ کا مطلب ہے کہ شعاعِ رسالت سے تمام کائنات اور اس کی جملہ مخلوقات  تکوینی اور تشریعی طور پر فیض یاب ہو رہی ہیں۔یہ فکر بھی قرآنِ عظیم سے عطاکردہ ہے۔سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

"اے کائنات کے حقیقتوں پر نظر رکھنے والو، مرکزِ خلائق محمدؐ کو راعنا کہہ کر نہیں، انظرنا کہہ کر مخاطب کرو"

پہلے مصرع میں حکیم الامت نے خودی کے لیے دو لوازمات کا بصیرت افروز ذکر کر دیا ۔ایک توحید، دوسری رسالت۔پھر دعوت دی کہ جب تک ان کا عملی مظاہرہ نہیں کرو گے تصورِ خودی سے شناسائی نہیں ہو گی۔اللہ کی خلافت اختیار کرنا اور اللہ کے صفات کی پیروی کرنا  خودی کی آخری حد ہے۔

خویش را صِبّغۃ اللہ رنگ دہ

عشق را ناموس و نام وننگ دہ

"بندے اللہ کے رنگ میں رنگ جا، عشق ِ محمدیؐ کے ناموس اور آبرو کو ملحوظِ خاطر رکھ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خودی سے اس طلسم ِ رنگ و بوُ کو توڑ سکتے ہیں

یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا، نہ میں سمجھا

گزشتہ   زیرِ بحث شعر میں خودی کی خصوصیات کا ذکر تھا۔اس شعر میں خودی کو عملی طور پر اختیار کرنے کے بعد جو برکات اور فیض حاصل ہوتا ہے ان کا ذکر کیا گیا ہے۔طلسم ِ رنگ و بو سے مراد ظاہری دنیا کی کشش اور کائنات میں موجود وسائل، ذرائع اور کائنات کے راز ہیں۔خودی سے سرشار لوگ نہ صرف کائنات کی پراسرار حقیقتوں کو پا سکتے ہیں بلکہ انھیں بروئے کار بھی لا سکتے ہیں۔علامہ اقبالؒ نےقرآنی آیات سے یہ حرف و معانی کے  ستارے تلاش کیے ہیں اور قوم کو تحقیق و جستجو کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔

علامہ اقبالؒ  اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ توحید صرف عقیدے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک وحدانی اور تسخیری قوت ہے جو صفاتِ الہیہ کی عملی اتباع کر کے حاصل ہو سکتی ہے۔دنیا میں خلافت کا جو تصور قرآنِ عظیم نے پیش کیا ہے علامہ اقبالؒ قوم کی توجہ اسی طرف دلا رہے ہیں۔قرآنِ مجید میں ایسی کئی آیات ہیں جو توحید کا مقصد تسخیر ِ کائنات بتاتی ہیں۔

 وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ  (سورۃ الزمر)

(اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے)

لیکن ہمارا مذہبی طبقہ توحید کو بس ایک کلامی مسئلہ قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔علامہ اقبالؒ ابن عربیؒ، مولانا رومؒ اور غزالیؒ کے بعد وہ  معتبر محققِ اسلام ہیں جنھوں نے توحید کی عملی صورتوں اور برکات کا اظہار کیا اور  خودی کی شرط کے ساتھ ان کی فعلیت کو ثابت کیا۔

۔۔۔۔۔۔

خودی پر حکیم الامتؒ کے  اشعار اور تشریح

 

خودی میں گم ہے خدائی، تلاش کر غافل

یہی ہے تیرے لیے اب صلاح ِ کار کی راہ

اس شعر میں علامہ اقبالؒ نے خدائی کو ان معنوں میں استعال نہیں کیا جو ہم عام طور پر استعمال کرتے ہیں بلکہ ان مخصوص قرآنی تدبیر کے تحت امتِ مسلمہ کو پیغام دیا ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ جب تم خلافتِ ارضی کے تقاضے پورے کرو گے تو اللہ تمہیں زمین میں اختیارات سے نوازے گا۔یہ خودی پر عمل پیرا ہونے والوں کے لیے ایک انعام ہو گا اور کائنات کے ذرائع تلاش کر کے انھیں تعمیرِ آدم ِ انسانی کے لیے بروئے کار لانا ممکن ہو جائے گا۔یہ مرتبہ اور اختیار جو مسلمان کو  اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے لفظ "خدائی" سے تعبیر کرتے ہیں  اور نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ یہ صلاحیت جمود اور غفلت میں کھو گئی ہے  اسے دوبارہ حاصل کیا جائے۔یہی میرا مشورہ ہے اور اگر اس پر عمل کیا جائے تو کامیابی کا باب کھل سکتا ہے۔ٖخلافت اور صفات ِ الہیہ کی شناسائی سے خودی کا جوہر پیدا ہو گا جو دراصل ایک قابلیت اور اہلیت ہے۔اس اہلیت سے مرتبہ اور اختیار کی صلاحیت میسر آئے گی اور پھر کائنات کے چھپے خزانوں تک رسائی حاصل ہو گی تب اس خُلق کی ضرورت پڑے گی جس کے تحت ایک مسلمان تمام صلاحیتوں اور ذرائع کو بنی نوع انسان کی بہبود کے لیے خرچ کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

تو آبجو اسے سمجھا اگر، تو چارہ نہیں

حکیم الامت خودی یعنی قوتِ وجدانی کو ایک لازوال حرکیت کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ خودی سمندر کی مانند ہوتی ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔یعنی خودی کو ہم محدود معنوں میں استعمال نہیں کر سکتے۔آپ ؒ نے ان لوگوں پر گرفت فرمائی ہے جو اسے ندی کی مانند سمجھتے ہیں یعنی اسے صرف اعتقاد اور تصور تک محدود کر دیتے ہیں۔علامہ اقبال کے نزدیک خودی ایک جہدِ مسلسل ہے جس میں قدم قدم پر نئے راستے اور منزلیں ہیں۔ذات کو پانا، ظاہری دنیا کو تسخیر کرنا، معانی کے مفہوم تک پہنچنا، تجلیات میں سفر کرنا، انوارات میں کھو جانا اور اللہ کی رضا کے لیے لامتناہی سفر پر نکلنا، یہ سب خودی کے مختلف مقامات ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پیام دے گئی ہے، مجھے بادِ صبح گاہی

کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

 بادِ صبح گاہی کو حکیم الامت نے ان تصورات کے معنوں میں لیا ہے جو اللہ تعالیِ کی طرف سے عطا کردہ ہوتے ہیں۔تقریباّ ہر جگہ اپنے کلام میں اور اس کی بنیاد خاتم المرسلینؐ کی وہ حدیث ہے جس میں آقائے دوجہاںؐ نے فرمایا"وحی کے تمام ابواب مجھ پرمقفل ہوگئے، میری امت کے لیے مبشرات باقی ہیں" یعنی میں خاتم الرسل بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

اس شعر میں حکیم الامت نے اس ایمان آفرین یقین کی بات کی ہے جو  ان کے لیے عطاءِ الہیٰ اور توہیب ِ محمدیؐ کی طرف سے لکھ دیا گیا ہے اور آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر کوئی اللہ  اور اللہ کے رسولؐ کی ذاتِ مبارکہ پہچان کر راہِ مستقیم پر چلے تو منزل پا لے گا اور اسے فضیلت و مرتبہ سے ہمکنار کیا جائے گا اور اسے ان تمام نعمتوں سے نوازا جائے گا جو تسخیرِ کائنات اور تعمیرِ آدم کے لیے ضروری ہیں۔

 

 

نہ ہے ستارے کی گردش نہ بازیءِ افلاک

خودی کی موت ہے تیرا زوال ِ نعمت و جاہ

ہمارے نوجوانوں کا اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ علامہ اقبالؒ ایک ایسے فکری رہنما ہیں جنہوں نے ہر اعتبار سے تعمیرِ افکار کا فریضہ سرانجام دیا۔علامہ اقبالؒ نے اپنی صلاحتیوں پر انحصار کرنے کو خودی کا نا م دیا ہے اور ان صلاحیتوں کو شخصی اور اجتماعی سطح پر اللہ پر کامل تقویٰ کے ساتھ بروئے کار لانا اور نتیجہ خیز مقصد کو حاصل کرنااُن کے پیشِ نظر ہے۔

اس شعر میں علامہ اقبالؒ نے ان اسباب کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے خودی متاثر ہوتی ہے۔بد فکری، توہم پرسی , (Superstitions) اور ناامیدی خودی  کو پامال کرتے ہیں۔قرآنِ عظیم ایمان کی خصوصیات یہ بتاتا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اسی سے امیدیں بھی وابستہ رکھو۔اس کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاو، جدوجہد کرو۔نفع نقصان کا مالک صرف اللہ کو جانو، کائنات میں انسان کے مقام اور اہمیت کو سمجھو۔کائنات میں اللہ کا خلیفہ انسان ہے اور تمام نعمتیں اسی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔انسان کا اعلیٰ مقام معرفتِ الہیٰ ہے جو خودی کا نصب العین ہے۔معرفت کا تقاضا ہر گز یہ نہیں ہے کہ انسان ستاروں کی گردش سے اپنی ناکامی یا کامیابی وابستہ کرے۔نظام ِ کائنات تو انسان کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔قرآن کی دعوت یہ ہے کہ اللہ نےان چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے۔انسان کے مقدر کا مالک صرف اللہ کی ذات ہے اور اس کی بہتری یا گراوٹ، کامیابی یا ناکامی اور خوشحالی و بدحالی کا فیصلہ انسان کے ایمان ، اعمال اور جدوجہد  پر ا ساس رکھتا ہے۔علامہ اقبالؒ اس قرآنی دستور العمل کو خودی سے تعبیر کرتے ہیں اور مسلمان قوم اور آج کے نوجوان کو بتاتے ہیں کہ ہمارا  زوال نعمت و جاہ، ستاروں کی گردش اور بازیءِ افلاک کے مرہونِ منت نہیں ہے بلکہ اس کا باعث ہماری کم ہمتی اور جدوجہد سے کنارہ کرنا ہے۔

آج اگر ہم عزم استقلال اور عملِ پیہم کے راستے پر گامزن ہوئے تو کائنات کا نظام ہمارے لیے معاون ثابت ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  

افکارِ تازہ

 

جہان ِ تازہ کی افکار ِ تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

(علامہ اقبالؒ)

 

فکر و تدبر ہی وہ قوت ہے جو قوموں کو پستی سے بلندی کی طرف، اندھیروں سے روشنی کی طرف اور پست حالی سے خوشحالی کی طرف گامزن کرتی ہے۔ ہر دورمیں سماجی اور معاشرتی تقاضے بدلتے ہیں۔علامہ اقبالؒ نے  اس شعر میں   توجہ دلائی ہے کہ  میسر اسباب و ذرائع  پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے  بلکہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ نئے خیالات، جدید نظریات اور  تازہ افکار کو بروئے کار لا کر ترقی کی طرف قدم اٹھانا  چاہیے ورنہ معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔یہ اہلِ علم کا خاصہ ہے کہ تازہ افکار کی روشنی میں ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں جن کے نتائج معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جتنی ترقی ہوئی ہے اور انسانوں کو جتنی آسانیاں میسر آئی ہیں وہ افکارِ تازہ ہی کی مرہونِ منت ہیں۔

آج پوری دنیا بد امنی کا شکار ہے۔اس کی ایک وجہ ایک دوسروں پر بھروسہ نہ کرنا ہے۔فلسفہءِ اقبالؒ کی روشنی میں  سماجی، معاشرتی اور اقتصادی ترقی کا راز قوموں کے  باہمی اتحاد میں پنہاں ہے۔اسی سے امن و اماں کی فضا قائم کی جا سکتی ہے۔اس بات کا اظہار آپؒ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں۔

ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں

اگر تمام ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسروں کی معاونت کریں گے تو  ہر طرف خوشحالی اور امن و امان کا دورہ اسی طرح ہو گا جیسے آسمان میں   تارے اپنی اپنی بساط کے مطابق  چمکتے ہوئے  خوشگوار منظر پیدا کرتے ہیں۔

 


ایک قطعہ کا   منظوم ترجمہ

بہ پورِ خویش دین و دانش آموز

کہ تابد چون مَہ و انجم نگینش

بہ دستِ او اگر دادی ھنر را

یدِ بیضا ست  اندر آستینش

(علامہ اقبالؒ ، ارمغانِ حجاز)

کرو  اولاد کو دین و بصیرت سے بہرہ ور

کہ وہ چمکیں مثلِ ماہ و انجم شام و سحر

گویا اُن کی آستینوں میں ید ِ بیضا ہے مضمم

گر تم نے دیا اُن کے ہاتھوں میں کسب و ہنر

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

خوف و یاس پر حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے  فارسی اشعار اور ترجمہ

.

 در معنی ایں کہ یاس و حزن و خوف

ام الخبائث است قاطع ِ حیات است

توحید ازالہ  ایں امراضِ خبیثہ می کند

   مایوسی،غم اور خوف تمام خرابیوں کی جڑ ہے اور اس سے حیات کے مقاصد ناپید ہو جاتے ہیں۔اس مرض کا ازالہ خالص توحید سے ممکن ہے

مرگ را ساماں زِ قطعِ آرزو است

زندگانی محکم از لا تَقنَطُو است

ناامید ہونا موت کے اسباب میں سے ہے۔زندگی لا تقنطو امن رحمۃ اللہ سے ثبات و استحکام پزیر ہوتی ہے۔

زندگی را یاس خواب آور بود

ایں دلیلِ سستی ءِ عُنصُر بود

یاسیت سے زندگی خوابِ غفلت کے اندھیروں میں سر چھپاتی ہے اور اس سے عناصر ِ حیات مضمحل ہو جاتے ہیں

چشمِ جاں را سرمہ اش اعمیٰ کند

روزِروشن را شبِ یلدا کند

خوف و یاس کے سرمہ سے باطن کی آنکھ اندھی ہو جاتی ہے۔یہ روزِ روشن کو شبِ تاریک میں بدل دیتا ہے۔

از دمش میرد قوائے زندگی

خشک گردد چشمہ ہائے زندگی

خوف و مایوسی سے زندگی کی توانائیاں سرد پڑ جاتی ہیں۔ارتقا و زرخیزی ءِ حیات کا زمزمہ خشک ہو جاتا ہے۔

اے کہ در  زندانِ غم باشی اسیر

از نبیؐ تعلیم ِ لا تحزن بگیر

اے کہ تو قیدِ غم کے قفس میں اسیر ہے۔رسول اللہ ؐ سے"غم نہ کر" کی تعلیم حاصل کر لے

(نوٹ: قرآن کی آیۃ سے تلمیح ہے۔  ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا(

 

ایں  سبق  صَدیق را صِدیق کرد

سر خوش از پیمانہءِ تحقیق کرد

اس سبق نےدوست کو صداقت شعار بنا دیا اور ان کوتوحید ِ حقیقی کی انتہائی رفعتوں پر لے گیا

(نوٹ: یہ شعر بھر پور پسِ منظر کا حامل ہے۔اسوہءِ حسنہ کے سائے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت سازی کا بیان اس میں موجزن ہے۔اتنا بے خوف شخص جس نے سرکار دوعالمؐ کے ارتحالِ پرُ ملال کے بعد امۃ کو سنبھالا۔انتہائیResolve  کے ساتھ تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور فتنوں کی سرکوبی کی۔اس پر امیر المومنین سیدنا علیؑ نے ان کو اشجع الناس کا خطاب دیا)

گر خداداری زِ غم آزاد شو

از خیالِ بیش و کم آزاد شو

اگر اللہ کو اپنا رب مانتے ہو تو غم سے آزاد ہو جاو۔کامیابی و ناکامی کے تصور سے نکل کر منزل کی طرف بڑھو

ہر شر پنہاں کہ اندر قلبِ تُست

اصل او بیم است اگر  بینی درست

ہر خرابی جس میں تیرا دل مبتلا ہے۔اس کی اصل وجہ خوف ہے ۔اگر تو جان سکتا ہے تو

لا بہ  و مکاری وکین و دروغ

ایں ھمہ از خوف می گیرد فروغ

یہ مکرو فریب بہانہ جوئی۔ کینہ حسد،کذب و دروغ جو شخصیت کو پراگندہ کرتے ہیں۔ان کی پروش خوف کے سائے میں ہوتی ہے

ہر کہ رمزِ مصطفیٰ  ؐ فہمیدہ است

شرک را در خوف مضمر دیدہ است

ہر وہ شخص جو رازِ مصطفیٰ سے شناور ہے اور اشارہ ءِ نبوی سے فیض یافتہ ہے وہ شرک کو خوف میں مضمر دیکھتا ہے

باتو میگویم حدیثِ بو علیؒ

در سوادِ ہند نامِ اوجلی

آں نوا پیرائے گلزارِ کہن


گفت با ما از گل ِرعنا سخن 
خطہء ایں جنت آتش نژاد 
از ہوائے دامنش مینو سواد

کوچک ابدلش سوئے بازار رفت

از شرابِ بو علیؒ سرشار است

عاملِ آں شہرمی آمد سوار

ہمرکابِ او  غلام و چوبدار

پیشرو زد بانگ اے نا ہو شمند

بر جلو دارانِ عامل رہ مبند

رفت آں درویش سرا فگندہ پیش

غوطہ زن اندریم افکارِ خویش

چوبدار از جامِ استکبار مست

بر سرِ درویش چوبِ خودشکست

اَز رہِ عامل فقیر آزردہ رفت

دلگران و ناخوش و افسردہ رفت

 

در حضورِ بو علیؒ فریاد کرد

اشک از زندان ِ چشمِ آزاد کرد

 

صورتِ برقے کہ بر کہسار ریخت

شیخ سیلِ آتش از گفتار ریخت

 

از رگِ جاں آتش ِ دیگر کشود

باد بیرِ خویش ارشا دے نمود

 

خامہ را بر گیر و فرمانے نویس

از فقیرے سوئے سلطاں نے نویس

 

بندہ ام را عاملِ بد گوہرے

ورنہ بخشم ملک ِ تو با دیگرے

 

نامہء آں بندہء حق دستگاہ

لرزہ ہا انداخت در اندامِ شاہ

 

پیکرش سرمایہ ء آلام گشت

زرد مثلِ آفتاب ِ شام گشت

 

 

بہرِ عامل حلقہء زنجیر جست

از قلندر عفو ِ ایں تقصیر جست

 

خسروِ شیریں زباں، رنگیں بیاں

نغمہ ہائش از ضمیرِکن فکاں

 

فطرتش روشن مثالِ ماہتاب

گشت از بہرِ سفارت انتخاب

 

چنگ را پیشِ قلندر چوں نواخت

از نوائے شیشہء جانش گداخت

 

شو کتے کو پختہ چوں کہسار بود

قیمتِ یک نغمہء گفتار بود

 

نیشتر بر قلب ِ درویشاں مزن

خویش را  در اتشِ سوزاں مزن

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

*نظم"سید کی لوحِ تربت" از حکیم الامت ؒ کی تفسیر*

 

اے کہ تیرا مرغ جاں تار نَفَس میں ہے اسیر
اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر

اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ
شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ

فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی
صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی

سنگ تربت ہے مرا گرویدہء تقریر دیکھ
چشمِ باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ

مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم ِدیں
ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے

محفلِ نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ

تو اگر کوئی مدبّر ہے تو سن میری صدا
ہے دلیری دستِ اربابِ سیاست کا عصا

عرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے

بندۂ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے

ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامۂ معجز رقم
شیشہ دل ہو اگر تیرا مثال جام جم

پاک رکھ اپنی زباں ، تلمیذ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو!

سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمن باطل جلا دے شعلہ آواز سے

 

تمہید:

حکیم الامت علامہ اقبالؒ کو سادات سے خاص نسبت ہے۔ایک موالاتی (Relatedly) دوسرا طبعی(Naturally)۔پہلے تعلق کی وجہ ان کے والدِ بزرگوار حضرت شیخ نور محمد قادریؒ اور ان کے مرّبی و محسن سید میر حسنؒ ہیں۔شیخ نور محمد قادری ؒ ایک صوفی منش انسان تھے اور کیا خوب بات ارشاد فرمائی ہے ۔سید الطائفہءِ صوفیا حضرت جنید بغدادیؒ نے کہا :-

"تصوف کی بنیاد مودتِ اہلِ بیت پر ہے اور اصول و فروع میں ہمارے امام و مقتدا علی ابن ابی الطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔لہذا نور محمد قادری ؒ نے اپنے فرزند کو عترتِ رسول ﷺ سے محبت ورثہ میں دی۔آپ قادری سلسلہ میں بیعت بھی اپنے والد سے تھے۔

مولودی سید میر حسنؒ کو صرف نسب کا شرف حاصل نہیں تھا۔ان کا علمی ذوق بھی باب العلم سے مستفاض (Derivated) تھا۔انہوں نے اپنے ہونہار شاگرد کے قلب میں عربی ، فارسی اور علوم تبحر کا ذوق پیدا فرمایا ۔علامہ نے اپنے استاد کو خراجِ تحسین بھی اس مقام پر پیش کیا ہے۔جہاں انہوں نے سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسماء کی شرح کی ہے۔

از ولائے دود مانش زندہ اَم

در جہاں مثلِ گوھر تابندہ اَم

طبعی طور پر  اقبالؒ کے حبِ اہلِ بیت کا اصل سبب ان کا فہمِ دین ہے۔وہ علمی  طور پر عبقری اور غامص شخصیت ہیں۔ان کو معلوم ہے کہ مقامِ رسولؐ کیا ہے اور اس کا اقتضا کیا ہے۔جب اللہ اپنے رسولؐ کے توسط سے امۃ کو اٰلِ رسول ؐ کے ساتھ مودت کا حکم دے رہا ہے اور اِلّا مَوَدَّۃَ فی القربیٰ کو مکمل خصوص (In particular)  کے ساتھ  ذکر کر رہا ہے تو اس کا اطلاق (Implication)  کیا ہے۔بس اس قرآنی دانش اور بصیرت نے علامہ اقبالؒ کو اہلِ بیت کا گرویدہ بنا دیا۔انہوں نے جا بجا اپنے اردو اور فارسی کلام میں جہاں جہاں حضرت فاطمہ الزھراؑ، حضرت علی کرم اللہ وجہۃ  اور حسنین ِ کریمین کا ذکر کیا ہے وہ ان کے قرآن فہمی کا آئنہ دار ہے۔اس کے ساتھ علامہ کےہاں ہمیں وہ توازن اور اعتدال دیکھنے کو ملتا ہے جو رومیؒ اور ابنِ عربیؒ کے بعد صرف ان کا حصہ ہے۔اہلِ بیت ِ اطہار اور ساداتِ حسنی و حسینی کے مقام کو علی وجہِ البصیرۃ(In True Spirit )  سمجھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے صحابہ ء اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عظمت کا بھی خوب خوب اعتراف کیا ہے اور ان کو امۃ کے لیے نجومِ ہدایت اور منبع ءِ فیض قرار دیا ہے۔

زیرِ بحث نظم"سید کی لوحِ تربت" بھی اس محبت و مودت کی خوشبو لیے ہوئے ہے جو اقبالؒ کے سینہءِ گنجینہ میں اہلِ بیت کے لیے موجود ہے۔اس کا عنوان سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصفی کنیت "ابو تراب" سے بھی عبارت ہے ۔اس منقب کے علاوہ   اس نظم کا قابلِ ذکر پہلو وہ فیضِ عام ہے جو امۃ کو سادات سے ملتا ہے اور جس کو عام کرنا امۃ کا فرض ہے۔

(خواطرِ نظم)

اے کہ تیرا مرغِ جاں تارِ نَفَس میں ہے اسیر

اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر

اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ

شہر جو اجڑا ہو اتھا اُس کی آبادی تو دیکھ

فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی

صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی

سنگِ تربت ہے مرا گرویدہءِ تقریر دیکھ

چشمِ باطن سے ذرا س لوح کی تحریر دیکھ

اقبالؒ سراپا نیاز بن کر سید بادشاہ کی تربت پر حاضر ہے۔یکایک اقبالؒ کی نظر لوحِ مزار پر پڑی۔چشمِ باطن سے دیکھا تو لوح ِ مزار تقریر پر آمادہ تھا اور اس کی تقریر ، تحریر کی صورت میں چشمِ پرنم کے سامنے واضح نقش بُن رہی تھی۔اس نقش کے اجمال، تفصیل پیش کرنے لگے۔اے کہ تو زندہ ہے، دنیا کی قید میں ہے۔تیری روح جسم کے پنجرہ میں ہے۔وسعتِ لامکاں کے تماشے دیکھنی والی روح فراق کی حدوں میں بے حد ہونے کے لیے بے تاب ہے۔عالمِ دنیا میں فکری انحطاط کا دور ختم ہو رہا ہے۔اجڑا ہوا چمن بادِ بہاری کے جھونکوں سے اثر پزیر ہے۔لگتا ہے خزاں رسیدہ طیور بہار آفریں ماحول میں نغمہ پیرا ء ہونےکے لیے تیار ہیں اور آزادی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔جس فکر کے لیے میں نے تیرے سینے میں چراغ ِ جستجو روشن کیا تھا ۔تیری فکر میری محفلِ مراد برپا کرنے کو ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے۔سید کا صبر اور اس کی استقامت اس طرح  بھی پھیل جاتی ہے اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔

(خلاصہءِ بند)

سید بادشاہ سے فیض پانے والا اقبالؒ ، اپنے سامعین پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اس کی فکر عام ہو رہی ہے۔ان کی فکر کے نتیجے میں بیداری کی لہر آرہی ہے اور وہ سماں جس کی خواہش سید زادہ صبر و استقلال سے کر رہا تھا کہ اب ان کے فرزندِ روحانی کے اشاعتِ فکر کے تحت ، تیزی کے ساتھ رونما ہونے کو ہے۔

مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں

ترکِ دنیا قوم کو اپنی  نہ سکھلانا کہیں

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں

چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہءِ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے

دیکھ کوئی دل نہ دُکھ جائے تری  تقریر سے

محفلِ نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ

رنگ پر جو اب نہ آئیں اُن فسانوں کو نہ چھیڑ

 اس بند میں حکیم الامۃ کو سید کی لوحِ مزار سے فیضِ اصلاح و تزکیہ کا قرینہ نصیب ہو رہا ہے۔گویا ایک منشور ِ اشاعت و تبلیغ  ہے جو لوحِ تربت  سے نور کی شعاع بن کر آنکھوں کے راستے قلب کے نہاں خانوں میں اتر رہا ہے۔جب عادلین ترکِ دنیا کر کے غاروں میں بیٹھ جائیں، اہلِ حق دنیا کے ہنگاموں سے دامن کھینچ لیں، تو دنیا ظلم اور فسق و فجور سے مملو ہو جائے گی۔لہذا سید بادشاہ نکتہءِ سنجِ خاوراں سے کہہ رہا ہے کہ تصوف ِ خانقاہی نہیں، تصوفِ شبیری اختیار کرو اور قوم کو بھی اصلاحِ خَلق کا درس دو۔تفرقہ بازی زھرِ ہلاہل ہے۔مذہبی، علاقائی اور لسانی ہر سطح پر تفرق و تشتت سے پر ہیز کرنا ہے اور اتحاد و یگانگت کو دستورِ حیات بنانا ہے۔تفرقہ بازی سے بگاڑ کا وہ باب کھلتا ہے جس کو بند کرنا نا ممکن ہے۔امیر المومنین سیدنا علی ابن ابی ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ جب تقسیم کا عمل شروع ہو جاتا ہے تو و ہ رکتا نہیں اس لیے اسباب کو نکتہءِ آغاز پر دبا دینا چاہیے جو تقسیم و تشتت کا باعث بنتے ہیں۔تحریر ویسے بھی تو حروف ، الفاظ اور کلمات کو جوڑنے کا عمل ہے لہذا اس کو وصلِ انسانی کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔تقریر جی لبھانے کے لیے  نہ کہ دل دکھانے کے لیےغیر مفید تذکروں سے بچنا بہت لازم ہے۔غیر متعلقہ گفتگو سے پرہیز وقت کی آواز ہے۔شرعاََ اور اخلاقاََ بھی لا یعنی چیزوں کو ترک کرنے کا حکم ہے۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں

"بے شک مسلمان کی خوبیوں میں یہ بات شامل ہے کہ وہ لا یعنی(غیر مفید) باتوں اور کاموں کو ترک کردیتا ہے"


 

تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صدا
ہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصا

عرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے

بندۂ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے

قائدین ، مدبرین اور رہنما یانِ قوم کے لیے سید بادشاہ  کی نصیحت کی ایک جھلک اس بند کا خاصہ ہے۔مداھنت ، منافقت ہی کی ایک قسم ہے۔جب بندہ  حق پر ہے تو اظہار سے کیا چیز  مانع ہے۔کلمہء حق کہنا مردِ مومن کا طرہءِ امتیاز ہے۔ان خاموشیوں کے عقب میں خوف و ریا کے خدشات کارفرما ہوتے ہیں اور مومن کا سرمایہ "لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون" ہے

باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے

شرکت میانہء حق وباطل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے ، ق لا

ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامۂ معجز رقم
شیشہ دل ہو اگر تیرا مثال جام جم

پاک رکھ اپنی زباں ، تلمیذ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو!

سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمن باطل جلا دے شعلہ آواز سے

سید بادشاہ کی لوحِ مزار سےدرسِ فیض نکتہءِ عروج پر ہے۔اے اقبالؒ تو شاعرِ خوش نوا ہے۔ شعراء  تلامیذ الرحمان  کے مصداق ہے ۔تیرے ہاتھ میں قلم و قرطاس ہے۔تحریر و شعر تیرا معجزہ ہے۔تیرا دل صاف اور آئنہ ءِ جمال ِ انوار ہونا چاہیے۔اپنی صدا  کی لاج رکھنی ہو گی آپ کو۔تیرا کلام بیداری کی دستک ہے۔تیری آواز کی گرمی سے باطل کی کھیتی جل جائے تو  مانوں

قابلِ صد احترام قارئین

اس نظم کے توسط سے حکیم الامتؒ نے جو سماجی، معاشی  حالات کی تصویر کشی کی ہے  اگر آج ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو جگہ جگہ نظر آئے گی۔علامہ اقبالؒ بتانا چاہتے ہیں کہ دین و دنیا دونوں کی کامیابی کےلیے انسان کو  کوشش کرنی چاہیے۔علماء کو فرقہ پرستی پھیلانے کے بجائے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی ضرورت ہے۔ایسی باتوں سے اجتناب برتنا چاہیے جن سے عملی زندگی پر صرف منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا اُن کا کوئی مقصد ہی نہیں ہوتا۔زندگی کے مقصد کو ذہن پر نقش کرتے ہوئے اپنے ہر عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ماضی میں جو ہو چکا  سو ہو چکا، ہمیں پرانے زخموں کو کریدنے کے بجائے نئی نسل کے لیے نئے راستے ہموار کرنے کی ضرورت ہے

روح فورم ایسے قائدین، علما، ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ اقتصادیات کو رکنیت کی دعوت دیتا ہے جو  اسوہءِ حسنہ اور فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں مقصدِ حیات سمجھتے ہوئے حالات کی بہتری کے لیے اپنے حصے کی شمع جلانے کے خواہشمند ہیں۔

زید گل خٹک, ایڈوائزر روح فورم

. مسجدِ قُرطُبہ-تفہیم و تشریح

 

 

سلسلۂ روز و شب نقش گرِ حادثات

سلسلۂ روز و شب اصل حیات و ممات

سلسلۂ روز و شب تار حریرِ دو رنگ

جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

سلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاں

جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بمِ ممکنات

تجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہ

سلسلۂ روز و شب صیرفیِ کائنات

تو ہو  اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیار

موت ہے تیری برات موت ہے میری برات

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا

ایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ رات

آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر

کار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثبات

اول و آخر فنا باطن و ظاہر فنا

نقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فنا

۔۔۔۔

ہے مگر اس نقش میں رنگِ ثباتِ دوام

جس کو کیا ہو کسی مرد ِخدا نے تمام

مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ

عشق ہے اصلِ حیات موت ہے اس پر حرام

تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو

عشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھام

عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا

اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

عشق دمِ جبرئیل عشق دلِ مصطفی

عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام

عشق کی مستی سے ہے پیکرِ گل تابناک

عشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرام

عشق فقیہِ حرم عشق امیرِ جنود

عشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقام

عشق کے مضراب سے نغمۂ تارِ حیات

عشق سے نورِ حیات عشق سے نارِ حیات

۔۔۔۔۔۔۔۔

اے حرمِ قرطبہ عشق سے تیرا وجود

عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود

رنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوت

معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود

قطرۂ خونِ جگر سل کو بناتا ہے دل

خون جگر سے صدا سوز و سرور و سرود

تیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوز

تجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشود

عرش معلّیٰ سے کم سینۂ آدم نہیں

گرچہ کفِ خاک کی حد ہے سپہرِ کبود

پیکرِ نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیا

اس کو میسر نہیں سوز و گدازِ سجود

کافرِ ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوق

دل میں صلوۃ و درود لب پہ صلوۃ و درود

شوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہے

نغمۂ اللہ ھو میرے رگ و پے میں ہے

۔۔۔۔

تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل

وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل

تیری بنا پائدار تیرے ستوں بے شمار

شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل

تیرے در و بام پر وادیِ ایمن کا نور

تیرا منارِ بلند جلوہ گِۂ جبرئیل

مٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہے

اس کی اذانوں سے فاش سرِ کلیم و خلیل

اس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغور

اس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیل

اس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریب

عہد کہن کو دیا اس نے پیامِ رحیل

ساقیٔ ارباب ذوق فارسِ میدانِ شوق

بادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیل

مرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہ

سایۂ شمشیر میں اس کا پنہ لا الہ

۔۔۔۔۔

تجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا راز

اس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گداز

اس کا مقامِ بلند اس کا خیالِ عظیم

اس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا ناز

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب و کار آفریں کار کشا کارساز

خاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفات

ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز

اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دلِ فریب اس کی نگہ دلِ نواز

نرم دمِ گفتگو گرم دمِ جستجو

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز

نقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیں

اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز

عقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہ

حلقۂ آفاق میں گرمیٔ محفل ہے وہ

۔۔۔۔

کعبۂ اربابِ فن سطوتِ دینِ مبیں

تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں

ہے تہِ گردوں اگر حسن میں تیری نظیر

قلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیں

آہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوار

حاملِ خلقِ عظیم صاحبِ صدق و یقیں

جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریب

سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے شاہی نہیں

جن کی نگاہوں نے کی تربیتِ شرق و غرب

ظلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد  راہ بیں

جن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسی

خوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیں

آج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزال

اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں

بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے

رنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے

۔۔۔۔

دیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماں

آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں

کون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہے

عشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں

دیکھ چکا المنی شورشِ اصلاحِ دیں

جس نے نہ چھوڑے کہیں نقشِ کہن کے نشاں

حرف غلط بن گئی عصمتِ پیرِ کنشت

اور ہوئی فکر کی کشتیِ نازک رواں

چشمِ فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلاب

جس سے دگرگوں ہوا مغربیوں کا جہاں

ملتِ رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیر

لذتِ تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواں

روحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب

رازِ خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباں

دیکھیے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا

گنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وادیٔ کہسار میں غرق شفق ہے سحاب

لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب

سادہ و پرسوز ہے دخترِ دہقاں کا گیت

کشتیِ دل کے لیے سیل ہے عہدِ شباب

آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی

دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب

عالمِ نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں

میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب

پردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سے

لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب

جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی

روح امم کی حیات کشمکشِ انقلاب

صورتِ شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسجدِ قرطبہ وہ نظم ہے جس میں علامہ اقبالؒ نے اپنی فکر کا کچھ حصہ اور اپنا قلبی درد سارے کا سارا نچوڑ دیا ہے۔یہ ایک خوانِ تصور ہے جس پر ملت کے مستقبل کا خواب اور ماضی کا نقش چُنا ہوا ہے۔

اس نظم میں  کوئی بڑا فکر مند اور زمانہ ساز شخص جھلکتا ہے جس کے قلبِ حزیں میں قوم کی عظمتِ رفتہ کا دلدوز احساس ہے اور مستقبل کا دلگداز نقش ہے۔ملتِ اسلامیہ کی تابناک ماضی پر ان کا قلم جس طرح اشک بہاتا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس قلم کے رشحات میں قوم کا مستقبل بھی جگمگا رہا ہے۔

  1. علامہ اقبالؒ نے اس نظم کا آغاز ایک دعا سے کیا ہے جو انہوں نے اہتمام کے ساتھ مسجدِ قرطبہ میں لکھی ہے جس میں آپ زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ میں اپنی نواوں میں خونِ جگر بہا رہا ہوں بس میری نماز اور میرا وضو انہی نواوں پر مشتمل ہیں۔اہلِ قلب کی ہمنشینی سے دلِ روشن ہوتا ہے اور سوزِ ایمان نصیب ہوتا ہے۔محبت کا سفر تنہا شروع ہوتا ہے اور پھر آرزو کی سچائی کی رفاقت میسر آتی ہے۔تب اللہ مسبب ُالاسباب پر توکل کی دولت نصیب ہوتی ہے اور  میرو وزیر سے سے بے نیازی کی سبیل بنتی ہے۔ظاہر و باطن نورِ الہیٰ سے آراستہ ہوتے ہیں۔اللہ جب قبلہءِ مقصود ٹھہرتا ہے تو زندگی میں امنگ لوٹ آتی ہے اور راہی کی کھوئی ہوئی منزل بھی مل جاتی ہے ۔اللہ کی معیت پر ہر چیز مقدم ہے۔اس کے بغیر  چمن ویران ہے اور  عندلیبِ نغمہ سے محروم!

علامہ اقبالؒ اللہ سے سوزِ آرزو کے ساتھ ساتھ حرارتِ اثر بھی مانگ رہے ہیں۔رسول اللہ ؐ ساقیءِ کوثرؐ سے چشمِ کرم کا سوال کر رہے ہیں۔اپنے فلسفہ وشعر کی برکات نسلِ نو میں دیکھنے کی تمنا دربارِ عظمت و کبریائی اور درگاہِ شفاعتِ مصطفائی ؐ میں پیش کرتے ہیں۔تب یہ شاھکار نظم صفحات پر پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتی ہے۔

علامہ اقبالؒ نے نظم کا آغاز فلسفیانہ انداز میں کیا ہے۔تکوین و تشریع پر عمدہ نکتہ دانی فرمائی ہے اور زماں و مکاں کا اثر پذیر تصور نہایت مہارت سے بیان کیا ہے۔آپؒ فرماتے ہیں کہ  مدیرِ حقیقی اور خالقِ ازل نے مکانِ فانی کو حیات و ممات سے سجایا ہے اور زماں کے پردوں میں انقلابِ دوراں کو سمو دیا ہے۔صفاتِ ذات ِ حق کی تجلیات زمان ومکاں کے احاطوں میں شب و روز کے طور پر رونما ہوتے ہیں اور نفی اثبات کے آئنہ میں جمال ِ لامکان کی جھلک دکھاتے ہیں۔دن رات ارادہء الہیٰ کے تحت کار فرما ہیں اور ممکنات کی فضا برپا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔اللہ نے فرزندِ زمانی و مکانی یعنی انسان کو ابتلا اور تکلف میں رکھا ہ اور ابتغا و تلاش کی جستجو عطا فرما کر اپنی منشا پورا کیا ہے۔

لقد خلقنا الانسان فی کبد

(ہم نے انسان کو عمل کی مشقت اورخلق کی تدبیر میں رکھا)

اور خلق الموت والحیوٰۃ لیبلوکم

(زمان و مکان میں آثار ِ حیات و ممات رکھ کر تم کو خوشگوار ابتلا میں مبتلا کیا)

علامہ اقبالؒ موت کو زندگی کاایک خوشگوار تسلسل قرار دیتے ہیں اس کے بعد لامکان کا  ایک اجمالی سا تعارف کراتے ہیں جہاں عالم بعض تنگیوں اور حدود و قیود سے بے نیاز ہے۔وقت کی پابندی احوال پر مسلط نہیں ہے ۔سرگرمیاں دن اور رات کے تصرف  میں نہیں ہیں۔اس فانی دنیا کے اعمال وہاں صوری اور شکلی اعتبار سے بے ثبات ہو جاتے ہیں ۔ہاں ان اعمال و ہنر  کے جوھری اثرات پائیدار ہوتےہیں اور لامکان میں بھی اپنا معنوی وجود محفوظ رکھ کر احساس دلاتے ہیں۔ان اشعار میں علامہ اقبالؒ اس بات کا درس دیتے نظر آتے ہیں کہ شکلوں اور ھیکلوں کےپیچھے اصل کارفرما قوت ، حسنِ نیت، اخلاص فی العمل، خشیتِ قلبی، رجوع الی اللہ ، پاکیزہ ارادہ اور فطری تزکیہ ہے اوریہ معنوی اور سرمدی صورتیں عشق کے مختلف محاسن ہیں۔ان جذبوں سے مرصع مکانی کام لامکانی وجود رکھتا ہے وگرنہ بے ثبات ہے۔اس زمان و مکان میں اول سے آخرتک ، قدیم و جدید سارے کا سارا شکلی لحاظ سے باقی نہیں رہے گا۔مکان کی تمام شکلیں لامکان میں کالعدم اور غیر متصور ہیں۔جیسے مٹی ارتقائی ارتفاع کرتے ہوئے پانی ، انجرات، بادل کی  حد تک پہنچ جاتی ہے۔بادل ہوائیں اڑاتی رہتی ہیں۔ہوائیں اوامر کے زیرِ اثر چلتی ہیں۔ہم مکان میں ہواوں کو محسوس کرسکتے ہیں لیکن اصل کارفرما قوت اوامر کا احساس تک نہیں ہوتا چونکہ وہاں سے لامکان شروع ہوتا ہے۔علامہؒ فرماتے ہیں ۔مکاں، لامکان میں شکلی اور صوری اعتبار سے فنا ہو جاتا ہے ۔ہاں البتہ جوھری اعتبار سے باقی رہتا ہے۔اس لیے دنیا میں ہمارے اعمال ظاہری ریا سے نہیں بلکہ باطنی اخلاص سے سرشار ہونے چاہییں تا کہ معنوی سطح پر لامکان میں اپنا جلوہ دکھا سکیں۔

  1. دوسرے بند میں علامہ اقبالؒ ان دائمی اثرات کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرتے ہیں جو کسی مردِ خدا کے عمل سے رونما ہوتے ہیں۔اخلاص کے کسی پیکر کا عمل رنگِ ثبات رکھتا ہے۔ماضی کے اندھیروں میں ڈوبتا نہیں بلکہ تابناک مستقبل کے لیے نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ اس عمل کی بنیاد عشق پر استوار ہے۔عشق کو دوامِ حقیقی حاصل ہے اور زمان و مکان کے تفوتی اثرات اس کو فنا سے دوچار نہیں کر سکتے۔گو زمانی و مکانی اثرات تیزی سے مرتب ہو رہے ہیں اور چیزوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں ۔ماضی پر حال کا غلاف چڑھا دیتے ہیں اور حال کو مستقبل کی روشنی سے فنا کے اندھیرے میں دھکیل دیتے ہیں لیکن عشق سے آباد آثار اس سیلِ بے اماں کےلپیٹ میں آ کر بھی پوری قوت سے قائم رہتے ہیں اور اپنے دائمی شہود کا ثبوت دیتے ہیں۔اس لیے کہ عشق ایک لامتناہی جزبی قوت ہے جو اپنے احاطہ میں عصور ودھور کو مقبوض کردیتی ہے اور اپنا کاری اثر تمام زمانوں پر جما دیتی ہے۔عشق ایک ایسی روحانی قوت ہے جو عالم ِ امر سے سیراب ہوتی ہے اور ارادہءِ الہیٰ سے مستیز ہوتی ہے۔دمِ جبریلؑ بھی قوتِ عشق سے عبارت ہے اور قلبِ مصطفیٰؐ بھی آبِ حَیَوَانِ عشق سے ضوفشاں ہے۔رسالت اور کلامِ پاک بھی عشق کے دیوان ہیں۔عشق دراصل ایک معنوی صورت ہے جو مختلف چیزوں میں جلوہ گرہ ہوتی ہے۔پھول کی خوشبو میں بھی عشق مہکتا ہے۔عشق عقل پر تجلی ڈال کر اس کو قوتِ فہم سے نوازتا ہے۔جسم میں شجاعت اور غیرت و حمیت کے پر تو ڈال کر اسے ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔عشق ایک مسلسل روحانی سفر ہے اور پر پڑاو کو متاثر کرتا ہے۔سب مقامات اس کے ترک تاز میں ہیں اور یہ مقام میں مقید نہیں ہو سکتا۔زندگی کا تار مضرابِ عشق سے نغمہ زار ہے۔حیات کا جلال و جمال عشق ہی کا شاخسانہ ہے۔
  2. تیسرے بند میں علامہ اقبالؒ مرکزِ عنوان کی طرف لوٹتے ہیں اور اپنے موضوع کے زور دار پسِ منظر اور استدلال فراہم کرنے کے بعد تدوینی اور تاثیری سطح پر کھولتے ہیں۔اے مسجدِ قرطبہ تیرا وجود بھی عشق کے دم قدم سے قائم ہے۔اس دوامی قوت نے تجھے رفت و بود سے بے نیاز کر دیا ہے۔فنونِ لطیفہ ہوں یا فنون ثقیلہ ہوں ۔خونِ جگر  کی آمیزش سے نمو پاتے ہیں اور عشق سنگ میں شعورِ حیات پیدا کر دیتا ہے۔جذبہءِ عشق سے رکھا ہوا  سلِ سینہءِ زمین میں دل کی طرح  دھڑکتا ہے اور آنے والے کو نغمہءِ سینہ ءِ جاوداں بزبانِ حال سناتا ہے۔عشق سے سجے یہ درو دیوار خامشی کی زبان میں گفتگو کر رہے ہیں۔اے حرمِ قرطبہ تیرے سِلوں اور میرے دل کے امتزاج سے جو نغمہ فضا میں بلند ہوا ہے وہ مسلمانوں کی حضوری کا باعث بنے گا اور عالمِ ارضی میں  بست و کشاد پیدا کرے گا۔

قلبِ انسان تو عرشِ ربانی ہے جس پر عشق کی تجلی پڑتی ہے اور پھر اس کا سوز و گداز زمانے میں عمل کی حرکت اور جذبوں میں یقین کی قوت پیدا کرتا ہے۔عشق علاقوں کے قید میں نہیں ہے اور جغرافیہ اس کے پاوں میں بیڑیاں نہیں ڈال سکتا۔دیکھو اللہ نے عرب کے ساز کا سوز ایک ہندی نژاد (اقبالؒ) کے قلب میں جانفزا کر دیا ہے۔مصطفیٰؐ عرب و عجم ہر جگہ اپنے حسن کا جلوہ دکھاتا ہے آخر (سلمان من اہلِ بیتی) کس طرف اشارہ ہے۔پس شرط یہ ہے دل حبِ رسولؐ سے شاد کام ہو، ظاہر خُلق نبیؐ سے آراستہ ہو اور باطن عشقِ الہیٰ سے لبریز ہو تو رنگِ مصطفیٰؐ کہیں بھی جم کر پھیل سکتا ہے۔

  1. چوتھے بند میں ان با کردار انسانوں اور وفا شعار سپوتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جن کے حسن ِ عمل سے اور جن کے جلالت قدر اور جمال آفرینی سے یہ پیکرِ تعمیر دادِ نظارا دے رہا ہے۔اس مسجد کی مضبوط بنیادیں، شکست و ریخت سے بے پروا  دیواریں اور سر آفاق ستون کسی کے عزمِ صمیم، ناقابلِ تسخیر ارادوں، ذوقِ جمال اور تفردِ خیال کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔جذبوں کی طہارت سے اس پیکرِ تعمیر اور ھیکل سنگ و خشت پر وادیءِ ایمن کو نور پڑ رہا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بلند مینار پر حضرت جبریلؑ کا بسیرا ہے۔یہ حصارِ ایمان و یقین بھلا ماضی کے دھند لکوں میں کیسے گم ہو سکتا ہے جو ان دلگداز اذانوں کی حلاوت سے آباد ہے جو ضربِ کلیمیؑ اور صدقِ خلیلؑ سے مُعَنوِن تھے۔یہ آثار جن کی بنیاد اخلاص و عشق اور لافانی جذبوں پر استوار ہیں قیدِ مکانی اور ضبطِ زمانی کی گرفت  میں نہیں آ سکتے۔یہاں سے ہر زمانے کے نام ایک جیتا جاگتا پیغام سنائی دے رہا ہے کہ یہ نقش جن جذبوں کا حاصل ہے وہی جذبے ایسے بہت سے نقوش پھر سے برپا کر سکتے ہیں ۔لا الہ کے تیغ سے اور الا للہ  کی زِرہ سے جہاں رنگ و بو میں پھر سے شہود ممکن ہے۔
  2. پانچویں بند میں علامہ اقبالؒ ان صفاتِ عالیہ کا ذکر فرما رہے ہیں جو حرمِ قرطبہ ایسے آثار برپا کر سکتے ہیں۔آج بھی ان صفات سے عبارت قوم تاریکیء عالم میں سراجِ منیر طلوع کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔یہ صفات جدوجہد اور تعلقِ ربانی سے موسوم ہیں۔خیالِ عظیم، عمل پیہم اور جہدِ مسلسل سے ہر وہ مقامِ بلند بازیاب کیا جاسکتا ہے۔شوقِ دلنواز، ذوقِ عمل، ناز و نیاز ِ کردار اور جذبِ دروں سے عظمت ِرفتہ کی باگ پھر سے گرفت میں لی جا سکتی ہے۔استمدادِ ربانی کے فیض سے تمام امور فلاح سے ہمکنار ہوتے ہیں۔بندہءِ خدا کے ہاتھ پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔

یَدُ ﷲِ فَوقَ اَیدِیھِم

خاکی ہو یا نوری ۔اللہ کی صفات کے پرتو سے شاد کام ہوتے ہیں ۔سب سے بے نیاز ہو کر اللہ کی نیاز مندی سے امیدیں بھر آتی ہیں اور قناعت کی دولت نصیب ہوتی ہے۔خلقِ عظیم، تبسمِ نگاہ، شیرینیءِ کلام، گرمیء کردار اور حسنِ اطوار سے قلوب فتح کیے جا سکتے ہیں۔رزم و بزم میں اخلاصِ قلب اور طہارتِ عمل سے ہی نقش جمائے جا سکتے ہیں ۔اللہ پر محکم یقین سے مشکلات ِ راہ خس و خاشاک کی طرح بہہ سکتی ہیں۔عقل سے جس منزل کا تعین کیا جاتا ہے وہ جذبہء عشق سے حاصل ہوتی ہے۔

  1. چھٹے بند میں علامہ اقبالؒ امۃ اسلامیہ کے نوجوانوں کو ذوقِ عمل کی طرف رہنمائی عطا کرتے ہیں اور علوم و فنون کی یلغار سے دنیا کو تسخیر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔آپؒ فرماتے ہیں۔سطوتِ دین ِ مبین اربابِ فن کے ہاتھوں سے قائم ہو گی۔اندلس میں اگر آج تک اہلِ اسلام کےآثار جگمگارہے ہیں تو وہ ان کے فنون کے آثار ہیں۔قومیں صرف افکار میں زندہ نہیں رہ سکتیں ۔قومیں فنون میں نظر آتی ہیں۔مسجدِ قرطبہ کا فن ِ تعمیر علامہ اقبالؒ کے نزدیک ایک ایسا شاہکار ہے جس سے شعارِ یقین تعمیر کیا جا سکتا ہے۔آپؒ قلوبِ نسل ِ نو میں گدگدی کر رہے ہیں کہ آو! اپنی متاعِ گم گشتہ بازیاب کر لو۔حق، صدق ویقین اور خُلقِ عظیم کی زیبائش سے اپنے کردار و اطوار کو آراستہ کر لو اور سلطانی میں فقر کی بَنا ڈال دو، خدمتِ خَلق سے ملازمتِ حق کی منزل پا لو۔نظر کا نور رسول اللہ ؐ سے لے لو اور شرق و غرب کے اندھیروں کو دور کردو ۔آج بھی اہلِ اندلس میں ان عظیم مسلمانوں کے کردار کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔خوش دل ، ملنسار ، سادگی شعار، متبسم رو، خوش گفتار اور خلیق ہیں۔آج بھی اندلس کی فضاوں میں یمنی بو باس ہے۔حبیبِ پاکؐ نے فرمایا تھا (مجھے یمن سے خوشبو آتی ہے)

آج بھی اندلس کی ہواوں میں حجازی آمیزش اور نواوں میں اسلامی ثقافت کی خوشبو رچی بسی ہے۔

  1. ساتویں بند میں علامہ اقبالؒ اس حسرت کا دل فگار اظہار کرتے ہیں کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے کہ آج مسجدِ قرطبہ کی فضاوں میں اذان نہیں گونج رہی۔آخر اس عشق ِ بلا خیز کا قافلہءِ جاں گداز کہاں رہ گیا جو اس فضا کو آ کر پھر گل نور کر دے۔مسلمانوں کی دینی اصلاح کے ذمہ دار کہاں پڑاو کیے ہوئے ہیں۔کیا ان کی فکر میں وہ روحانی تڑپ ہے جو امۃ کی رگ و پے میں زندگی کی لہر دوڑا دے۔کیا انقلاب کا مطلب تعمیر کے بجائے تخریب ہے۔تخریب کبھی بھی دین کی مطمحِ نظر نہیں ہو سکتا۔انقلاب جِلا دینے کا نہیں۔تخریبی رویے حرفِ غلط ہوتے ہیں ۔مٹتے چلے جاتے ہیں۔آخر فرانس کے انقلاب نے اہلِ مغرب کو کیا دیا۔گروہی تعصب میں مبتلا کیا۔اس کے علاوہ ان انقلابات کی کیا فتوحات ہیں۔کیا جذوی اور سفلی مقاصد کے حصول کے لیے عملِ تجدید تعمیرِ جہاں کا باعث بن سکتا ہے۔ہر گز نہیں۔البتہ اگر روحِ اسلام بیدار ہو جائے تو عالمِ انسانی میں سکھ اور چین کا سماں پیدا ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے روحِ اسلام سے سرشار جمعیت کی ضرورت ہے۔جذبِ باہم درکار ہے۔ربط و یگانگت کی احیتاج ہے۔اگر روحِ اسلامی اپنی اصل شکل میں بیدار ہو گئی ۔ظَھَرَ الفساد فی ا لبرِ و البحر کی صورت ختم ہو سکتی ہے۔زمین سونا اگل سکتی ہے اور آسمان سے خوانِ نعمت و رحمت نازل ہو سکتے ہیں۔
  2. آٹھویں اور آخری بند میں علامہ اقبالؒ روحِ اسلام کے خوشگوار اثرات کا اشارہ دیتے ہیں اور آفتابِ اسلام کی پرنور شعاوں سے عالمِ ارضی میں کیا رونق برپا ہو سکتی ہے۔اس کا نقشہ کھینچتے ہیں۔آپؒ آبِ روانِ کبیر کے کنارے چشمِ تصور سے اُس عالمِ نو کا خوشگوار اور دلکشا و روح افزا منظر دیکھ رہے ہیں جو گو  ابھی پردہءِ تقدیر میں پنہاں ہے لیکن بندہءِ مومن اور مردِ عشق کی تدبیر اور حکمتِ کار سے عالمِ رنگ و بو میں منصہءِ شہود پر رونما ہو سکتا ہے۔آپؒ مغربیوں کو انتباہ کر رہے ہیں کہ ہوس گری اور حرص گیری سے کچھ حاصل نہیں۔میری نواوں اور افکار کی گرمی سے یہ خانہءِ حرص و ہوا تحلیل ہو سکتا ہے اور وہ بقعہءِ نور برپا ہو سکتا ہے جو صرف اسوہءِ حسنہ کے حسن سامانیوں میں پنہاں ہے ۔آپؒ فرماتے ہیں۔اے جوانوں مرگِ غفلت سے نکل آو اور جدوجہد و ابتلا کی کشمکش سے دوچار ہو جاو۔روحِ امم کو حرارتِ انقلاب سے زندہ کرو وگرنہ قصہءِ پارینہ بن جاو گے۔تصحیح ِ عمل اور عملِ پیہم سے تم دستِ قضا میں شمشیر کی صورت کارگر ہو سکتے ہو۔

خونِ جگر کی آمیزش سے جان ِ مشرق انگڑائی لے گی۔تن مردہ میں زندگی کی رُمق پیدا ہو گی،نقش ونغمہ پھر سے سیرابیءِ نگاہ اور زیبِ گلو بن سکتے ہیں۔بس خونِ جگر کی ضرورت ہے جو میری نواوں کے زور سے نشونما پا سکتے ہے اگر جمعیت ِ خاطر اور ربطِ باہم میسر ہو

 

Login to post comments
 Professor Allama Zaid Gul Khattak is a renowned Islamic scholar from Pakistan. He has been associated with Voice of America’s (VOA) program Dewa Radio for about ten years where most of the topics with respect to Tasawuf were debated including the life history of about five hundred Sufis from the
Professor Zaid Gul Khattak gave lectures on  VoA ( Urdu) Voice of America Channel for 12 years on subjects like seerat, Hadith , Tassawuf , Poetry and Iqbaliyat 
  • Prev
حکیم الامتؒ کا اظہاریہ اور بیانیہ شعر ہے لیکن خبریہ اور انشائیہ بہت عالمانہ اور محققانہ ہے۔ آپؒ الہامی اور کسبی تاریخ کا بےپناہ مطالعہ اور عبقری مشاہدہ رکھتے ہیں۔ اللہ جلّ شانہ کا ارادہ پہلے تعیّنِ
  • Prev

                                                      
 






معراج  النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم 

 

by Prof Zaid Gul Khattak  Link download                           by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

ولادت حضرت عیسی ' ابن مریم علیہ السلام اور مسلمان


by Prof Zaid Gul Khattak  Link download

Recent News

cache/resized/b15a70d8f5547f99286ef34082cb3ae3.jpg 11
January 2022

عِلم

عِلم علم اصولی طور پر صفاتِ اِلٰہیہ  میں سے ہے وہ خالقِ کائنات علیم و علّام ہے۔ مطلق، ذاتی اور کلّی علم اْس کے پاس ہےاْس پاک والاصفات نے جدّْنا ...

From The Blog

  • چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

    حریت از زہر اندر کام ریخت

    جب خلافت نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے آزادی کے  حلق میں زہر انڈیل دیا۔

    پھر حضرتِ اقبال  تاریخ کی طرف جاتے ہیں  ۔ امتدادِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں  مرور ِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں یہ عظیم الشان  اظہار پسند  ایک شعر میں تاریخ کے حال و ماضی و استقبال  کو سمو کے  رکھ دیتا ہے۔ کہ وہ جو حق تھا  بظاہر قلت کے ساتھ رونما ہوا تھا  و قلیل من عبادی الشکور یہی تو حق کی پہچان ہے حضرت ِ طالوت ؑ کی قیادت میں  حزب الشیطان کے ایک سرکش  کے مقابلے میں جب حق آراستہ ہوا تو قرآن میں کیا آتا ہے  ۔

    قرآن ِ عظیم میں رب جلیل کا ارشاد ہے  کہ اُن میں سے کچھ نے فرمایا

    فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ

  • پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد
    پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد


    کعب بن زہیرہ عرب کا مشہور شاعر تھا۔ لُردانِ کفر کے حرص آمیز بہکاوے میں آکر کعب ہجویہ شاعری کرتا تھا اور آقا و مولیٰ محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں شتم کا ارتکاب کرتا تھا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر موہوم خوف کے تحت طائف کی طرف فرار اختیار کر رہا تھا کہ راستے  ح کُن
    اقدس بخشش فرمائی۔امر پیش آیا۔ ناقہ کا رُخ موڑ کر کعب بن زہیر دربارِ عفوِ بے کنار کی طرف واپس پلٹا۔ واپسی کے سفرِ ندامت میں قصیدہ بانت سعاد منظوم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کی۔ میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف معاف کیا بلکہ بطورِ خلعتِ فاخرہ اپنی ردائے 

Support us to spread the love n light

Your contribution can make the difference - Get involved

Upcoming Events

Coming soon فصوص الحکم و خصوص الکلم

Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…