Iqbal (15)
تراکیبِ اقبالؒ
تراکیبِ اقبالؒ کو بالفاظِ دیگر ہم مصطلحات ِ حکیم الامت بھی کہہ سکتے ہیں۔ترکیب قواعد کی رو سے دو الفاظ یعنی مفردات کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔تراکیب کی اقسام گو زیادہ ہیں لیکن مرکبِ توصیفی، مرکب عطفی اور مرکبِ اضافی زیادہ معروف اور مستعمل ہیں۔حکیم الامتؒ کی اختیار کردہ تراکیب کو تعلق بیک وقت قواعد ِلسان سے بھی ہے اور مجازِ مرسل و بحور و عروض سے بھی ہے۔
۔۔۔۔
بالِ جبریل
اس مجموعۂ کلام کا پہلا نام حضرت نے "نشانِ منزل" رکھا تھا لیکن مضامین استقرائی ، ارتقائی ہونے کے ساتھ ساتھ عرفانی بھی آ گئے ۔اس لیے عنوان"بالِ جبریل" ٹھہرا۔بال سے "پر" اور "پرواز" دونوں مراد
ہیں۔جبریل رئیس الملائیکہ کا نامِ نامی ہے۔جبریل عبرانی زبان کا لفظ ہے۔جبرا + ایل یعنی اللہ کا قوی بندہ ۔جبرائیل کو اللہ نے قرآن مجید میں اِن القاب سے ذکر فرمایا ہے۔
1) روح ُالامین
2) روح ُ القدس
3) ذی قوۃ عند ذی العرش ِ مکین
4) رسولِِ کریم
5) عَبد ِمُکَرَّم
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: آسمانوں میں میرے دو وزیر ہیں"جبریل و میکال"


معراج النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم
by Prof Zaid Gul Khattak Link download by Prof Zaid Gul Khattak Link download
ولادت حضرت عیسی ' ابن مریم علیہ السلام اور مسلمان
by Prof Zaid Gul Khattak Link download
Recent News
عِلم
From The Blog
-
چون خلافت رشتہ از قرآن گسیختچون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
حریت از زہر اندر کام ریخت
جب خلافت نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے آزادی کے حلق میں زہر انڈیل دیا۔
پھر حضرتِ اقبال تاریخ کی طرف جاتے ہیں ۔ امتدادِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں مرور ِ زمانہ کی طرف جاتے ہیں یہ عظیم الشان اظہار پسند ایک شعر میں تاریخ کے حال و ماضی و استقبال کو سمو کے رکھ دیتا ہے۔ کہ وہ جو حق تھا بظاہر قلت کے ساتھ رونما ہوا تھا و قلیل من عبادی الشکور یہی تو حق کی پہچان ہے حضرت ِ طالوت ؑ کی قیادت میں حزب الشیطان کے ایک سرکش کے مقابلے میں جب حق آراستہ ہوا تو قرآن میں کیا آتا ہے ۔
قرآن ِ عظیم میں رب جلیل کا ارشاد ہے کہ اُن میں سے کچھ نے فرمایا
فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ
-
پیشِ پیغمبر چو کعبِ پاک زاد
کعب بن زہیرہ عرب کا مشہور شاعر تھا۔ لُردانِ کفر کے حرص آمیز بہکاوے میں آکر کعب ہجویہ شاعری کرتا تھا اور آقا و مولیٰ محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں شتم کا ارتکاب کرتا تھا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر موہوم خوف کے تحت طائف کی طرف فرار اختیار کر رہا تھا کہ راستے ح کُن
اقدس بخشش فرمائی۔امر پیش آیا۔ ناقہ کا رُخ موڑ کر کعب بن زہیر دربارِ عفوِ بے کنار کی طرف واپس پلٹا۔ واپسی کے سفرِ ندامت میں قصیدہ بانت سعاد منظوم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کی۔ میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف معاف کیا بلکہ بطورِ خلعتِ فاخرہ اپنی ردائے
Support us to spread the love n light
Your contribution can make the difference - Get involved
Upcoming Events
Coming soon فصوص الحکم و خصوص الکلم